متاثرین لیاری ایکسپریس وے کو3ہفتوں میں ادائیگی کا حکم

ادائیگی نہ ہوئی تو افسران کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے نتائج بھگتنا ہونگے


Staff Reporter August 09, 2012
ادائیگی نہ ہوئی تو افسران کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے نتائج بھگتنا ہونگے۔ فوٹو ایکسپریس

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکومت کو لیاری ایکسپریس وے کے 200 سے زائد متاثرہ خاندانوں کو تین ہفتوں میں معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ادائیگی نہ ہوئی تو افسران کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے نتائج بھگتنا ہونگے ، فاضل بینچ نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ ادائیگی کے لیے حکومت اور حکومت ت سندھ ، شہری حکومت اور کے ایم سی متاثرین کو تین ہفتوں میں معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کیلیے رواں مالی سال کے بجٹ میں 445ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل اشفاق تگڑ نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ خزانہ نے محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میںمعاوضے کی رقم کی ادائیگی کیلیے 445ملین روپے مختص کردیے ہیں، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے وکیل سید سلطان احمد نے موقف اختیارکیا کہ شہری حکومت کالعدم ہوچکی ہے جبکہ درخواست میں کے ایم سی فریق نہیں، اس لیے درخواست گزاروں کودرخواست میں ترمیم کی ہدایت کی جائے۔

محمد عثمان، محمدزاہد، راجو، اشرف علی اور مسمات زہرا سمیت لیاری ایکسپریس وے کے 200سے زائد متاثرین کی جانب سے شوکت شیخ ایڈووکیٹ اور دیگر کے توسط سے دائر کردہ 20 سے زائد درخواستوں میں حکومت سندھ،پروجیکٹ ڈائریکٹر لیاری ایکسپریس وے اور ای ڈی او ریونیو سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کا تعلق پاک کالونی،گلشن مصطفیٰ،جوہرآباد،مسلم کالونی اور گلبرگ ٹائون کے مختلف علاقوں سے ہے،لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کیلیے ان کے گھروں کو منہدم کردیا گیا تھا۔