کاؤس جی ایس آئی یوٹی کے سچے دوست تھےادیب رضوی

کئی جدید مشینیں ایس آئی یو ٹی کو دیں، بعد از مرگ اعضابھی عطیہ کیے


Staff Reporter March 31, 2013
کئی جدید مشینیں ایس آئی یو ٹی کو دیں، بعد از مرگ اعضابھی عطیہ کیے . فوٹو: ایس یو آئی ٹی

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یور ولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے زیر اہتمام نامور صحافی ارد شیر کائوس جی کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیاگیا جس میں کائوس جی کو ان کی پاکستان کے لیے عمومی اور کراچی کے لیے بالخصوص شاندارانسانی خدمات کے سلسلے میں بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اس موقع پر ادارے کے سربراہ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے کہا کہ ارد شیر کائوس جی ایس آئی یوٹی کے سچے دوست تھے، انھوں نے1993میں پہلے اپنی اہلیہ کے نام پر ڈایلیسس مشینوں کا عطیہ دیا تھا اوراس کے بعداپنی والدہ کے نام پر مزید 24 مشینوں پر مشتمل ہیپاٹائٹس بی پازیٹیو مریضوں کے لیے مخصوص مشینوں کے یونٹ کا بھی عطیہ دیا، بعد ازاں انھوں نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی میں گردوں کے اندر سے پتھر توڑنے والی4 جدید ترین مشین لیتھوٹرپسی مشینوں کے عطیات بھی دیے جن سے ہزاروں مریضوںکے گردے کی پتھری نکالی گئی اور ابھی بھی یہ عمل جاری ہے۔



ڈاکٹرادیب الحسن رضوی نے کہاکہ بعد ازمرگ عطیہ کے پروگرام کی مہم کے دوران کائوس جی نے بھر پور ساتھ دیا اور متعلقہ قانون کے نفاذکے بعد وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے اپنے اعضا بعد ازمرگ عطیہ کرنے کی وصیت پر دستخط کیے، اس موقع پر زبیدہ مصطفی، ڈاکٹرکیرشا کھمباٹا، زہر ہ یوسف، منیر اے ملک، حمید اے ہارون، ظفر عباس، سعید حسن خان اور محترم مولانا عبدالستا ر اید ھی نے بھی حاضرین سے خطاب کیا، مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کائوس جی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔

وہ ایک سچے اور ایماندار محب وطن تھے، انھوں نے اپنی تمام زندگی فلاحی کاموں میں گزاری، وہ باقاعدہ کالم نویس بھی تھے اپنے تحریکی مضامین سے معاشرے کی برائیوں اور خامیوںکی نشاندہی کرتے تھے، اس مو قع پر کائوس جی کے فیملی ممبرز دوست احباب اور فلاحی ورکرز اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، تقریب کے اختتام پرمرحوم کائوس جی کی احترام میں 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔