کاغذات نامزدگی کا آخری دن سٹی کورٹ میں گہما گہمی

امیدواروں کی اکثریت دوپہرکےبعدآئی،اتوارکےروزبھی اسٹامپ پیپر،نوٹری پبلک،فوٹواسٹیٹ کےکاروبارسےوابستہ افرادکی چاندی ہوگئی


Staff Reporter April 01, 2013
سٹی کورٹ میںکاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے متحدہ کے نامزدامیدوارشاکرعلی آرہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

ISLAMABAD: سیاستدان منتخب ہونے کے بعد عوام کا درد بھول جانے کی شہرت رکھتے ہیں تاہم عام انتخابات کیلیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے آخری دن سٹی کورٹ میں اسٹامپ پیپر، نوٹری پبلک، فوٹو اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد کی چاندی ہوگئی۔

سٹی کورٹ کی کینٹین اور کھانے پینے کی اشیا بیچنے والے افراد کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا،تفصیلات کے مطابق ووٹرز کی جانب سے یہ شکایت عام ہے کہ عوامی نمائندے اپنے انتخاب کے بعد ان سے منہ موڑ لیتے ہیں اور وہ صرف عام انتخابات کے دوران ہی عام لوگوں کی دسترس میں ہوتے ہیں، عام انتخابات کیلیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے آخری دن امیدواروں اور ان کے حامیوں نے بڑی تعداد میں سٹی کورٹ میں موجود کراچی کے چار اضلاع کے ریٹرننگ افسران کے دفاتر کا رخ کیا اس موقع پر سٹی کورٹ کے احاطے میں موجود نوٹری پبلک، کمپیوٹر آپریٹرز اور اسٹامپ پیپر فروخت کرنے والوں کا کاروبار چمک اٹھا جبکہ سٹی کورٹ کے مختلف مقامات پر واقع فوٹواسٹیٹ کی دکانوں پر امیدواروں اور ان کے حامیوں کا رش دکھائی دیا۔

1

کمپیوٹر آپریٹر آفتاب احمد نے بتایا کہ عام انتخابات کی وجہ سے یہ پہلا دن ہے کہ اتوار کے باوجود وہ اپنے کام پر آئے ہیں اور اچھی خاصی آمدنی ہوئی ہے، انھوں نے بتایا کہ معاشی سرگرمیاں محدود ہونے کی وجہ سے اگر ہفتہ وار تعطیل کے روز بھی کام کرنے کے مواقع ہوں تو وہ کام کرنے کیلیے تیار رہتے ہیں، فوٹو اسٹیٹ کی دکان کے مالک عرفان احمد نے بتایا کہ اتوار کو وہ آئے تو ہیں لیکن انھیں کوئی خاص آمدنی نہیں ہوئی ہے۔

تاہم فوٹو اسٹیٹ کی دیگر دکانوں کے مالکان کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری دن انھیں اچھی آمدنی ہوئی ہے، سٹی کورٹ کی کینٹین اور کھانے پینے کی اشیا آواز لگا کر بیچنے والوں کا کہنا تھا کہ انھیں توقع سے کم آمدنی ہوئی ہے زیادہ تر امیدوار دوپہر کے بعد کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے آئے تھے اس لیے انھوں نے کھانے پینے کی اشیا کی جانب سے توجہ نہیں دی اور وہ اپنے کاغذات کی کمی کو دور کرنے میں زیادہ مصروف دکھائی دیے۔