تعلیم سب کے لیے

ایک اہم وفاقی ادارے کا معلومات افروز تعارف۔


ایک اہم وفاقی ادارے کا معلومات افروز تعارف۔ فوٹو: سوشل میڈیا

یہ 2002 ء کی بات ہے جب حکومت پاکستان نے ملک بھر میں بنیادی تعلیم(basic education) اور بنیادی صحت کا معیار بہتر کرنے کی خاطر ایک اہم ادارے''وفاقی ادارہ برائے انسانی ترقی''(National Commission for Human Development)کی بنیاد رکھی۔

آج یہ وزارت وفاقی تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت کے تحت پورے پاکستان کے بیشتر اضلاع میں ''تعلیم سب کے لیے'' اور بنیادی صحت کے حوالے سے طے شدہ ترقیاتی اہداف (Sustainable Development Goals) کے حصول کی خاطر ملک بھر میں کام کرنے والا واحد وفاقی ادارہ ہے۔''وفاقی ادارہ برائے انسانی ترقی'' کا بنیادی مقصد وطن عزیز میں تعلیم یافتہ ، صحت مند اورپُرامن معاشرے کا قیام ہے۔

اس کے ایک منصوبے'' یونیورسل پرائمری ایجوکیشن پروگرام ''کے ذریعے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی حکومت کی وساطت سے بنیادی تعلیم کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔اس ضمن میں ایک تا نو سال کے تمام بچوں کا گھر گھر سروے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی معاونت سے ہر چار سال بعد کیا جاتا ہے۔ اس سروے میں ادارہ فیلڈ سٹاف تما م اساتذہ کو پرفارما پُر اور ریکارڈ مرتب کرنے کے بارے میں باقاعدہ تربیت دیتا ہے۔ وفاقی ادارہ برائے انسانی ترقی میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کی مرکزی سطح کے مطابق مرکز کوآرڈ نیٹر(فیلڈآفیسر (BPS-16تعینات ہوتا ہے۔

چار تا نو سال کے جتنے بچے کسی بھی گھرانے میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں، اُن کے داخلہ نمبر اور تعلیمی ادارہ جہاں بچہ داخل ہے، کی تصدیق کرکے اس کے علاوہ جتنے بھی بچے اسکول نہیں جا رہے یا کسی بھی وجہ سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں،اُن کی فہرست مرتب کی جاتی ہے۔ سروے کے دوران تمام گھرانوں کو باقاعدہ نمبر دیا جاتا ہے اور وہ نمبر تمام چھوٹے بچوں کو جب یونیورسل پرائمری ایجوکیشن (یو پی ای رجسٹر) میں اندراج کیا جا رہا ہوتا ہے تو گھرانے نمبر کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔

دوران سروے ادارے اور محکمہ تعلیم کے افسروں نے مانیٹرنگ کرنا ہوتی ہے اور جہاں کوئی غلطی محسوس ہو وہاں دوبارہ سروے کیا جاتا ہے تاکہ پورے ضلع میں سو فیصد نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ یو پی ای سروے کے بعد چار سال کے تمام بچوں کی علیحدہ اورپانچ تا نو سال کے تمام اسکول نہ جانے والے بچوں کا یو پی ای رجسٹر سالانہ بنیادوں پر گھرانا نمبر نام، ولدیت، ایڈریس ،تاریخ پیدائش معلومات کا انداراج کرکے ایک گورنمنٹ پرائمری اسکول یعنی گراس روٹ لیول سے ضلع کی سطح پر ریکارڈ مرتب ہوپاتاہے کہ ایک علاقے میں کتنے بچے/بچیاں بنیادی تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔ ایک اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کے علاقے میں کتنے بچے/بچیاں ہیں،پھر تحصیل کی سچح پر بچوں کی فہرست مرتب ہوتی ہے اور پھر پورے ضلع کا ریکارڈ مرتب ہو پاتا ہے کہ اس سال کتنے بچے /بچیاں سکول جانے کی عمر کو پہنچ چکے ۔

چار تا دس سال کے اسکول نہ جانے والے بچے جو بنیادی تعلیم کسی بھی وجہ سے حاصل نہیں کر پا رہے ، ضلعی حکومت،اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور وفاقی ادارہ برائے انسانی ترقی کا ٹارگٹ ہیں۔مقصد یہ ہے کہ یہ تمام بچے ہر صورت قریبی تعلیمی ادارے میں داخل ہونے چاہئیں۔اُن کے والدین چاہے اُنھیں پرائیویٹ اسکولوں ، مدارس ، حکومتی تعلیمی اداروں یا ادارے کے کمیونٹی فیڈر اسکول میں داخل کروائیں ۔کوشش کی جاتی ہے کہ یو پی ای رجسٹر میں موجود بچہ/بچی ہر صورت داخل ہونا چاہیے۔گورنمنٹ اسکولوں میں فیس نہیں لی جاتی اورکتابیں مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ جو والدین بچوں کے لیے یونیفارم نہیں لے سکتے، اُن بچوں کو یونیفارم بھی تعلیمی ادارے دیتے ہیں۔

ایک ضلع کے ایسے علاقوں میں جہاں بچوں کی تعداد تیس سے زائد ہو اور وہ چار سے نوسال کی عمر کے ہو چکے اور ڈیڑھ سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر کوئی گورنمنٹ یا پرائیویٹ تعلیمی ادارے کی سہولت میسر نہیں اور بچے دوری کی وجہ سے بنیادی تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے تو وفاقی ادارہ برائے انسانی ترقی ضلعی حکومت اور اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بنیادی تعلیم کی فراہمی کا حصول سو فیصد ممکن بنانے کے لیے وہاں کمیونٹی فیڈر اسکول قائم کرتا ہے۔یہ کلاس سوئم تک عارضی بنیادوں پر قائم سیٹ اپ ہوتا ہے۔ کمیونٹی فیڈر اسکول کے قیام کے لیے جگہ وہاں کی لوکل کمیونٹی نے عارضی بنیادوں پر مفت میں فراہم کرنا ہوتی ہے۔

فہرست کے مطابق تمام اسکول نہ جانے والے بچوں کا سو فیصدداخلہ ممکن بنایا جاتا ہے ۔ رضا کار استاد)فیڈرٹیچر) کی خدمات لی جاتی ہیں جسے ادارہ اعزازیہ کے طور پر 8000/- روپے ماہانہ ادا کرتی ہے۔ باقاعدہ انٹرویو کے بعد ایل فرد کو بطور رضا کار استاد تعینات کیا جاتا ہے۔ بطور رضا کار استاد تعیناتی کے بعد مکمل ٹریننگ کروائی جاتی ہے۔ رضا کار استاد کا بینک اکاؤنٹ کھلوا کر اُسے ماہانہ بنیاد پر اعزازیہ دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اسکول ہیلتھ پروگرام کے ذریعے کمیونٹی فیڈر سکولوں میں زیر تعلیم بچے ؍بچیوں کا مکمل طبی معائنہ کروایا جاتا ہے تا کہ اگر بچپن میں بچے کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس سے وہ تعلیم سے دور بھاگ رہے ہیں تو مناسب علاج کروا کر بیماری کا خاتمہ بچپن سے ہی ہو پائے اور تعلیم کے حصول میں حائل رکاوٹ ختم ہو پائے۔

وفاقی ادارہ برائے انسانی ترقی فیڈر سکولز اور تعلیم بالغاں پروگرام کے لٹریسی سنٹرز والے علاقوں میں بنیادی صحت کی فراہمی اور بہتر علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ صحت ، مخیر حضرات ، ادویات کی کمپنیوں اور مقامی رضاکاروں کے تعاون سے فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام بھی کرتا ہے تا کہ بنیادی تعلیم اور بنیادی صحت کی فراہمی کے لیے عام شہری کو ہر ممکن سہولت گھر کی دہلیز تک پہنچ پائے۔