مویشی منڈی بصورت سینیٹ انتخابات

سینیٹ انتخابات میں اراکین اسمبلی کی قیمتوں کی خبریں یوں آتی رہیں جیسے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں ہوں


محسن اسحاق March 05, 2018
حالیہ سینیٹ انتخابات میں اراکین اسمبلی کی خریداری کےلیے لگائی گئی قیمتوں کی خبریں یوں آتی رہیں جیسے عید سے پہلے قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کی خبریں آتی ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

حالیہ سینیٹ انتخابات میں ضمیر فروشی کی روایت تو برقرار رہی، ساتھ ہی عوام الناس کےلیے ایک اہم پیغام بھی ابھر کر ایک بار پھر سے سامنے آیا جہاں ایک طرف سینیٹ کے امیدواروں کی طرف سے اراکین اسمبلی کی خریداری کےلیے لگائی گئی قیمتوں کی خبریں یوں آتی رہیں جیسے عید سے پہلے قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کی خبریں آتی ہیں، وہیں دوسری طرف ہر جماعت اپنے اپنے مفادات کی خاطر نام نہاد نظریات کا گلا گھونٹتی نظر آئی۔

سینیٹ انتخابات کے نام پر ہونے والا جواریوں کا کھیل تماشا تو خوب دیکھ لیا، اب قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ موجودہ دھن، دھونس اور دھاندلی کے نظام انتخاب کی بلی کے سامنے ایک بار پھر کبوتر جیسا ردعمل ظاہر کرے یا اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے؟

وہ نظام جس میں نواز شریف، عمران خان، مولوی فضل الرحمان، آصف زرداری، سراج الحق وغیرہم نے ارب پتی تاجروں کو ٹکٹ فروخت کرتے ہوئے اپنے اپنے مخلص اور ایماندار مگر غریب پارٹی کارکنان کے منہ پر کرارا تھپڑ مارا۔

خان صاحب نے شیر پاؤ کے ساتھ صرف ووٹ کے حصول کےلیے اتحاد کرلیا جنہیں کرپشن پر نکالا گیا تھا اور شیر پاؤ صاحب نے بھی اپنی پارٹی ساکھ کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہاتھ ملا لیا۔

اے این پی کو کمیونسٹ کہنے والی جماعت اسلامی نے جہاں اپنے نام نہاد فتوے سے دستبردار ہوتے ہوئے اے این پی کو مسلمانی کے سرٹیفکیٹ سے نوازا، وہاں اے این پی نے بھی اپنے نظریات کے مقبرے کی بنیاد رکھتے ہوئے جماعت اسلامی کی گود میں بیٹھنے کا اعلان کردیا، مگر ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔

نون لیگ کی تو بات ہی کیا ہے! باوجود اس کے کہ ان کی حقیقت پاکستان کی اعلی عدلیہ ماضی قریب میں نااہلی کے فیصلوں کے ذریعے کھل کر بیان کر چکی ہے، وہ 33 کے عدد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے تمام نظریات کی پڑیا بنا کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینکتے ہوئے نون لیگ کو گلے لگایا اور محض سینیٹ کی ایک سیٹ حاصل کرتے ہوئے اپنے تمام حالیہ انقلابی دعووں کی کالک بنا کر اپنے ہی منہ پر مل لی۔

یہاں زرداری صاحب کا ذکر بہت ضروری ہے کیونکہ وہ اس موجودہ نظام انتخابات کو ننگا کرکے قوم کے سامنے لانے میں پیش پیش رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے اراکین کو خرید کر یہ ثابت کردیا کہ اس حمام میں بظاہر تبدیلی کا لبادہ محض نظروں کا بھرم ہے، یہاں سب ننگے ہیں اور ان ننگوں کی قیمت صرف چند کروڑ روپے ہے۔

سندھ سے ایم کیو ایم کے اراکین نے اپنا ضمیر اور ووٹ بیچا جبکہ کے پی کے سے پی ٹی آئی کے تقریباً 20 اراکین نے اس منڈی میں اپنا بھاؤ وصول کیا۔

پیسے پھینکنے کے اس کھیل میں پیپلز پارٹی کے نام 20 سیٹیں آئیں جبکہ بولی لگانے میں پیپلز پارٹی پہلے نمبر پر رہی۔

ایک طرف پی ٹی آئی یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں اگر کوئی ایسا امیدوار کامیاب ہوتا ہے جس کی جماعت کے پاس نشستیں نہیں تو اس کی مثال یوں ہے کہ آپ منڈی میں بکرا خریدنے جائیں، آپ کی جیب میں صرف پانچ ہزار روپے ہوں جبکہ بکرے کی قیمت تیس ہزار روپے ہو؛ اگر پھر بھی آپ بکرا لے کر واپس آتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یا تو آپ نے کسی کی جیب ماری ہے یا پھر آپ نے بکرا چوری کیا ہے۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کی اسی مثال کے تناظر میں اگر ہم ان کی اپنی ہی جماعت کے چوہدری سرور صاحب کو دیکھیں، جنہوں نے پنجاب سے 44 ووٹ لیے اور سینیٹر منتخب ہوگئے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ چوہدری سرور صاحب نے بھی کسی کی جیب کاٹی ہے یا پھر بکرا ہی چوری کیا ہے؟

بہرحال، پی ٹی آئی 12 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر براجمان ہے اور بلوچستان میں آزاد امیدواروں سے رابطے کی بھرپور کوشش میں ہے تاکہ بولی لگانے کے اس کھیل میں کسی سے کسی قدر پیچھے نہ رہے۔

یہ ساری صورت حال دیکھتے ہوئے مجھے ڈاکٹر طاہر القادری کے 23 دسمبر 2012 کو مینار پاکستان پر اور لانگ مارچ 2013 کے دوران کیے گئے خطابات یاد آگئے۔

بہرحال الیکشن 2018 سے پہلے اراکین اسمبلی کا یہ ننگا پن دراصل قوم کےلیے ایک تشویش ناک اشارہ (الارمنگ انڈیکیشن) ہے کہ اب بھی وقت ہے ''ری سیٹ'' (Reset) کرلیں ورنہ موجودہ نظام انتخاب کا یہ سانپ گزر جائے گا اور عوام پانچ سال لکیر کو پیٹتے رہیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔