ملکی تقدیر بدلنے کا لمحہ

ہم سمجھتے ہیں کہ کابینہ کو امن و امان، مہنگائی اور دہشت گردی و بدامنی کی روک تھام کے حوالے سے حالات کا جائزہ۔۔۔


Editorial April 06, 2013
ہم سمجھتے ہیں کہ کابینہ کو امن و امان، مہنگائی اور دہشت گردی و بدامنی کی روک تھام کے حوالے سے حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ فوٹو: فائل

KARACHI: نگراں وفاقی کابینہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ نگراں حکومت ملک میں پرُ امن، صاف شفاف ، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانے کے لیے پرُ عزم ہے اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر شیڈول کے مطابق ہوں گے، جب کہ وزیر اعظم نے ارکان سے کہا ہے کہ وہ اپنی وزارتوں سے متعلق عوامی مفاد کے لیے لازمی اور فوری توجہ کے حامل معاملات سمیت اہم مسائل کے حل میں درست اقدامات کریں۔

جمعہ کو نگراں وزیر اعظم میرہزار خان کھوسو کی صدارت میں منعقد ہونے والے وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عارف نظامی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے عزم کا اظہار کیا۔ کابینہ میں انتخابات کی راہ میں ممکنہ رکاوٹوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ امن و امان کی صورتحال پر خصوصی بات چیت کی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومتوں سے مکمل کوآرڈنیشن کی جائے گی اور ملک میں امن و امان کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو نظر بھی آئیں گے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

نگراں وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس بلاشبہ ارباب اختیار کے ان عزائم کی ایک ابتدائی جھلک ہے جس میں قوم کو شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، یہ امر بھی اطمینان بخش ہے کہ الیکشن پروسیس طے شدہ شیڈول کے تحت خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہا ہے، چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم سے ایک ملاقات میں انتخابات کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو ملک میں انتخابات کے پر امن انعقاد کے سلسلے میں جو بھی تعاون درکار ہو گا وہ ہم فراہم کریں گے لیکن حقائق کی تپتی ہوئی زمین پر جب تک قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے مربوط اور منظم طریقے سے اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے وسائل اور فالٹ فری انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مستعدی سے مشروط نہیں ہوں گے دہشت گردی کے خطرات سروں پر منڈلاتے ہی رہیں گے۔

ضرورت سیاسی اور انتخابی ماحول میں گہما گہمی کا حقیقی اور فطری ماحول پیدا کرنے کی ہے اور یہ کاریگری سنجیدہ ہو، اس کے لیے انتخابی عمل سبک رفتاری سے چلے تو متنازعہ اور تصفیہ طلب قانونی و آئینی معاملات بہتر انداز میں حل ہوتے چلے جائیں گے۔ مثال کے طورپرکاغذات نامزدگی سے متعلق ریٹرننگ افسروں کے سوالات سے پیدا شدہ اضطراب اور اعتراضات کو میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں اجاگر کر رہی ہیں لیکن خوش آیند بات یہ ہے کہ باوجود تحفظات کے امیدوار چھان بین کے مرحلے سے گزرتے جا رہے ہیں، ان کی نظریں انتخابات کے بر وقت انعقاد پر مرکوز ہیں۔ کابینہ کے اراکین اس چشم کشا حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہوں گے کہ چاروں صوبوں میں زمینی صورتحال صبر آزما اور چیلنجنگ ہے جس میں نگراں سیٹ اپ کو مدبرانہ، دلیرانہ اور معاملہ فہمی کے ساتھ درست انتظامی، سیاسی اور اقتصادی فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کا موقع دستیاب ہے، یہ قومی مشن ہے۔

پچھلی حکومت نے اپنی جمہوری میعاد پوری کی جو سنگ میل عبور کرنے کے مترادف ہے مگر وہ بھی صورتحال کو کنٹرول نہیں کر سکی، دہشت گردی نے آخر کار ایک جن اور عفریت کی شکل اختیار کر لی۔

اب ٹارگٹ یا ہدف امن کی بحالی ہے۔ امن و امان کی سنگینی، دہشت گردی کے واقعات، شورش اور قتل و غارت میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جتنی عملی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی، ملک بدترین سماجی، معاشی اور سیاسی بحرانوں اور داخلی کشمکش سے گزر رہا ہے، حالات کی برس ہا برس سے پرورش پانے والی خرابیاں چیلنج بن چکی ہیں جسے قبول کرنے اور انتخابی ماحول کو سازگار بنانے کے لیے غیر معمولی اور غیر روایتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اعصاب شکن تناظر میں ملکی انتخابات ملک کی جدید تاریخ کا کڑا امتحان ہیں جس میں فتح کے چانسز ناکامی کے خطرات پر غلبے کے منتظر ہیں۔

یہ خوش آیند بات ہے کہ نگراں حکومت نے آزادانہ انتخابات کے امور پر غور و فکر کے ساتھ ساتھ توانائی بحران کے خاتمے کے لیے درپیش چیلنجز کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر اعظم نے وزارت کے حکام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کی ہدایت کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کابینہ کو امن و امان، مہنگائی اور دہشت گردی و بدامنی کی روک تھام کے حوالے سے حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ جس کے لیے بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، اور کراچی کی صورتحال کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ ادھر سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران نوگو ایریاز کے خاتمے سے متعلق پولیس کی تازہ رپورٹ کو ایک بار پھر مسترد کر دیا۔

عدالت نے جمعرات کو بھی اسی بابت پولیس کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ہدایت جاری کی تھیں کہ تمام 112 تھانوں کے ایس ایچ او اپنی اپنی رپورٹیں جمع کرائیں۔ پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی دوسری رپورٹ پر عدالت نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ پولیس نے اپنی تازہ رپورٹ میں شہر میں 29 جزوی اور 13 مکمل نوگو ایریاز کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سات روز میں نتائج نہ ملے تو بلوچستان کی طرح سخت فیصلہ کریں گے، افسران قانون کی رٹ قائم کریں ورنہ گھر جائیں۔ چیف جسٹس کا یہ انتباہ گہری معنویت کا حامل ہے۔

بلوچستان میں بدامنی کو کنٹرول کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے عدلیہ نے کراچی کے مستقبل پر امکانی فیصلے کا جو عندیہ دیا ہے اسے ارباب بست و کشاد ویک اپ کال سمجھیں، کوئی بحران پیدا نہ ہونے دیں، کراچی کی صورتحال کے پس منظر میں قانون شکن عناصر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جنگ زرگری اور دکھاوے کی لڑائی کا تاثر ختم ہو گا تب امن ہو گا۔ حکام ملک گیر سطح پر امن کے قیام کی کوششوں کی موثر منصوبہ بندی کریں، وہ کام کریں جو سابقہ حکومت کرنے سے یا تو کتراتی رہی یا حالات کے جبر نے کچھ کرنے نہیں دیا۔ بہر حال جمہوری تسلسل کے لیے جو اقدامات اور پالیسیاں سابقہ حکومت نے اختیار کیں اسی کا نتیجہ ہے کہ قوم نئے انتخابی منظر نامے کا حصہ بن چکی ہے اور قوم کی تقدیر بدلنے کا سنہری موقع 11 مئی2013ء کے انتخابات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

عدلیہ اور عسکری قیادت کی اجتماعی دانش سے ارباب اختیار جس قدر استفادہ کر سکتے ہیں کر لیں کیونکہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن یا کریک ڈاؤن اور اچانک کارروائی میں جو سقم نظر آئے ہیں ان میں سب سے بڑی شکایت بین الصوبائی انٹیلی جنس کے فقدان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں عدم رابطہ کی سامنے آئی ہے چنانچہ دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز اور خطرناک ملزمان کا پولیس، رینجرز اور ایف سی کی گرفت سے نکلنے اور دندناتے پھرنے کا سلسلہ اسی صورت میں ختم ہو سکتا ہے کہ ایسے اقدامات ہوں جو کسی سطح پر قانون شکنوں کو ابھرنے نہ دیں، اعلیٰ پیمانے کی منصوبہ بندی ہونی چاہیے، ایکشن پلان طے پانے چاہئیں۔ بلا شبہ جہاں مسائل کی شدت ہے، بدامنی ہے، وہاں بہر کیف اچھے اشارے بھی آ رہے ہیں 'پیدا کہیں بہار کے امکان ہوئے تو ہیں۔' قوم کو امن، شفاف انتخابات اور خوش حالی کی منزل چاہیے۔ قدم بڑھائیے۔