ڈیوس کپ ٹائی پاکستان نے کیوی فتح کو غیر منصفانہ قرار دے دیا

سری لنکن ریفری اشیتا اجیگال نے حریف ٹیم کو جیت تحفے میں پیش کی، فیصلے پر پلیئرز بھی صدمے سے دوچار ہوگئے،کلیم امام.


Sports Desk April 07, 2013
واقعے کی ساری ذمہ داری آئی ٹی ایف اور پی ٹی ایف پر عائد ہوتی ہے، ستمبر سے قبل پاکستان سے یہ مقابلے دوبارہ کھیلنا انتہائی مشکل ہے، نیوزی لینڈ ٹینس. فوٹو: وکی پیڈیا

پاکستان ٹینس فیڈریشن نے ڈیوس کپ ٹائی میں نیوزی لینڈ کو فتحیاب قرار دینے کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دے دیا۔

پی ٹی ایف اس سلسلے میں آئی ٹی ایف سے اپیل کرے گی، پی ٹی ایف کے صدر کلیم امام کا کہنا ہے کہ سری لنکن ریفری اشیتا اجیگال نے کیوی ٹیم کو جیت تحفے میں پیش کی، فیصلے پر پلیئرز بھی صدمے سے دوچار ہوگئے، دوسری جانب کیوی ٹینس چیف نے متنازع فتح کی ذمہ داری آئی ٹی ایف اور پی ٹی ایف پر ڈال دی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹینس فیڈریشن نے ڈیوس کپ ٹائی میں ہونے والی ناانصافی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے آئی ٹی ایف سے اپیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

صدر کلیم امام کا کہنا ہے کہ ٹائی کو فورفیٹ کرکے نیوزی لینڈ کو4-1 سے فتحیاب قرار دینے کا فیصلہ غیرمنصفانہ ہے، ہم سمجھتے ہیں ریفری نے نیوزی لینڈ کو یہ جیت تحفے میں پیش کی،پاکستانی پلیئرز بھی اس فیصلے پر حیران رہ گئے، یہ تباہ کن صورتحال ہے، ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر ٹائی کا پہلا میچ مکمل ہوگیا تھا تو پھر ریفری نے دوسرے مقابلے میں کورٹ کے خراب ہونے کا معاملہ کیوں اٹھایا؟ پوری ٹائی کو نیوزی لینڈ کے نام کردینا غلط ہے، یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اتنے بڑے ایونٹ کو انفرادی طور پر ایک معمولی غلطی کی بھینٹ چڑھا دیاگیا۔

7

 

دوسری جانب نیوزی لینڈ ٹینس کے چیف ایگزیکٹیو اسٹیو جون نے ڈیوس کپ ٹائی کی متنازع فتح کو انٹرنیشنل اور پاکستانی ٹینس حکام کی مشترکہ غلطی قرار دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ ینگون میں پیش آنے والے واقعے کی ساری ذمہ داری آئی ٹی ایف اور پی ٹی ایف پر عائد ہوتی ہے، انھوں نے اس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اس وینیو پر ٹائی کی میزبانی کررہے ہوتے تو ٹینس کورٹس سے متعلق تمام معلومات آئی ٹی ایف کو فراہم کرتے اور پھر وہ اس کی منظوری دیتی۔کیوی ٹینس چیف نے کہاکہ ہمارے لیے ستمبر سے قبل پاکستان سے یہ مقابلے دوبارہ کھیلنا انتہائی مشکل ہے، اگر اس کا اور کوئی راستہ نکالا گیا تو پھر ہم حریف کا ردعمل دیکھ کر رائے دیں گے۔

یقینی طور پر پاکستان گروپ ' ون ' میں رسائی یقینی بنانے کیلیے ٹائی کا دوبارہ انعقاد چاہے گالیکن قواعد تو قواعد ہیں،آئی ٹی ایف ان پر سختی سے عمل کرتی ہے، انھوں نے مزید کہا کہ دیگر بہت سے لوگوں کی طرح ہمیں بھی میانمار کو اس ٹائی کی میزبانی دیے جانے پر بہت حیرت ہوئی لیکن ہم نے آئی ٹی ایف پر اعتبار کیا،ہمیں گمان تھا کہ اس نے درست فیصلہ کیا ہوگا لیکن وہاں کی سہولتیں معیار سے کمتر تھیں، انھوں نے بتایا کہ جب ہماری ٹیم وہاں پہنچی تو اسے ٹینس کورٹس دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی تھی، ٹائی کا اس طرح ختم ہونا ہمارے لیے بھی کھوکھلی فتح ہے۔علاوہ ازیں کپتان الیسٹر ہنٹ نے کیوی ریڈیو سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ ابتدائی میچ کے بعد بیس لائن پر گڑھے پڑ گئے اور اس پر کھیل جاری رکھنا خطرناک ہوگیا تھا۔