کتب بینی کے خاتمے سے نوجوان نسل تباہ ہو جائے گی مقررین

ادبی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے،حنان علی کی کتاب کی تقریب رونمائی.


Staff Reporter April 07, 2013
حنان علی عباسی اپنی کتاب’’چین سے برطانیہ تک‘‘ نعمت اللہ خان اور فاطمہ ثریا بجیا کو پیش کررہے ہیں،گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر فٹن اوئل نگر اور سماجی رہنما رمضان چھیپا بھی موجود ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

QUETTA: قومی ادبی پالیسی کا فوری نفاذ ملک میں تخلیقی ادب کونئی زندگی فراہم کرسکتا ہے، کتب بینی کا رجحان معاشرے سے ختم ہوا تو نوجوان نسل تباہی کی طرف چل پڑے گی۔

تمام سیاسی جماعتوں کو ادبی سرگرمیوں کی غیرمعمولی انداز میں حوصلہ افزائی کرنی ہوگی، حنان علی عباسی کی تصنیف''چین سے برطانیہ تک'' میں پاکستان کے نوجوانوں کو چینی اور برطانوی زندگی کے سیاسی، ثقافتی اور سماجی رنگ سے روشنا س کرایا گیا ہے، ان خیالات کا اظہار ملک کی معروف مصنفہ فاطمہ ثریا بجیا، معروف دانشور آغا سمعود حسین، سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ، معروف سماجی رہنما رمضان چھیپا، گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر فون اوئل نگور اور دیگر نے جرمنی انٹرنیشنل تھنک ٹینک گوئٹے انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان لائبریری کلب کے زیراہتمام نوجوان مصنف اور نیشنل یوتھ اسمبلی کے صدر حنان علی عباسی کی کتاب''چین سے برطانیہ تک'' کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

6

مقررین نے کہا کہ26 سالہ پاکستانی نوجوان حنان علی عباسی نے اپنے سفری جذبات کو ایک عالمی معیار کی کتاب بنا کر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی نوجوان نسل کو سرپرستی حاصل ہو تو وہ بے مثال تخلیقات کر سکتے ہیں، ''چین سے برطانیہ تک'' کی تقریب رونمائی کو جدت سے ہم آہنگ کرنے کیلیے کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران 10منٹ دورانیے کی خصوصی ڈاکومینٹری فلم بھی پیش کی گئی، جسے حاضرین نے خوب سراہا اور ادب کی جدید خطوط پر ترقی کی سمت اور اہم پیش رفت قرار دیا، گوئٹہ انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ اس کتاب کی تقریب رونمائی میں سینئر صحافی اطہر علی ہاشمی، انور سن رائے، سعید خاور اور سجاد احمد عباسی بھی موجودتھے۔