شیخ وقاصیاسر رضا کی ڈگریاں جعلی قرار مزید 3 ارکان کا فیصلہ محفوظ

80 ارکان کی اسناد درست،ایچ ای سی، وٹو،فیصل صالح، زہری کی اسنادتصدیق کے مرحلے میں ہیں


80 ارکان کی اسناد درست،ایچ ای سی، وٹو،فیصل صالح، زہری کی اسنادتصدیق کے مرحلے میں ہیں۔ فوٹو: فائل

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو باضابطہ طورپر آگاہ کردیا ہے کہ سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم اور پنجاب اسمبلی کے سابق رکن یاسر رضا کی ڈگریاں جعلی ہیں۔

ہائرایجوکیشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم کی اے لیول کی ڈگری جعلی ہے ، اسکے علاوہ پنجاب اسمبلی کے سابق رکن یاسر رضا کی ایف اے کی ڈگری بھی جعلی ہے اوراسی وجہ سے ان کی بی اے کی ڈگری بھی منسوخ کردی گئی ہے۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق ہفتہ کوایچ ای سی کیطرف سے الیکشن کمیشن کو بھیجی گئی تفصیلات کے مطابق 80 سابق اراکین کی ڈگریاں درست قرار پائی ہیں۔ ان میں امیر مقام، چوہدری نثار، صمصام بخاری، خورشید شاہ، نرگس فیض ملک، طلحہٰ محمود اور افراسیاب خٹک شامل ہیں۔

آن لائن کے مطابق جاوید ہاشمی ، نصیر احمد بھٹہ ، مہرین انور راجہ ، ثمینہ خالد گھرکی اور طارق انیس کی ڈگریوں کو بھی درست قرار دیدیا گیا ہے جبکہ چیئرمین ایچ ای سی جاوید لغاری کا کہنا ہے کہ میاں منظور وٹو ، رخسانہ بنگش ، فیصل صالح ، وقار احمد اور ثناء اللہ زہری کی ڈگریاں تصدیق کے مرحلے میں ہیں ، ان کی ڈگریوں کو نہ جعلی اورنہ اصلی قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ سابق ارکان عظیم دولتانہ اور شہباز بھٹی کا نام انتقال کرنے کے باعث فہرست سے نکال دیا گیا ہے، ڈگریوں کی تصدیق کی تاریخ بڑھانا ہمارا نہیں سپریم کورٹ کا اختیار ہے۔

7

ادھر الیکشن کمیشن مزید 3 ارکان سیموئیل کامران، طارق مگسی اور نواب اکبر مگسی کی جعلی ڈگری کیسز پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جمعے کو جن 12 ارکان کے کیسز کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا ، ان میں تمبر سہوانی کے کیس میں انٹر میڈیٹ بورڈ حیدرآباد کے کنٹرولر اور رجسٹرار سندھ یونیورسٹی کو 11 اپریل کو طلب کرلیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہاولپور سید حامد حسین شاہ نے جعلی ڈگری کیس میں پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر اور سابق رکن قومی اسمبلی ملک عامر یار وارن کی غیر منقولہ جائیداد کو قرق کرنے کے احکام جاری کر دیے۔ لاہورپولیس نے 4 سابق خواتین ارکان صوبائی اسمبلی کو جعلی ڈگری کیس میں مفرور قرار دے دیا ۔ان میں فرح دیبا ،صائمہ عزیز ، افشاں فاروقی اور سفینہ صائمہ شامل ہیں۔