الیکشن میں سیکیورٹی خدشات

نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو شفاف‘ منصفانہ اور غیر جانبدار بنانے کے لیے ہر ممکن طور پر کوشاں ہیں۔


Editorial April 07, 2013
سیاسی جماعتوں کے نجی گارڈز سمیت کوئی اسلحے کی نمائش نہیں کرسکے گا، ملک حبیب۔ فوٹو : فائل

عام انتخابات کے دن جوں جوں قریب آرہے ہیں ، ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہورہی ہیں، ایسے ماحول میں امن وامان کے حوالے سے خدشات وخطرات میں اضافے کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔

اگلے روز نگراں وفاقی وزیر داخلہ نے بھی اس حوالے سے اظہار خیال کیا۔ایک ٹی وی سے انٹرویو کے دوران انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ نواز شریف' عمران خان اور دیگر اہم سیاسی قائدین کی جان کو خطرے کی اطلاعات ہیں۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہارکیا ہے کہ خدا نخواستہ نواز شریف یا عمران خان کو کچھ ہوا تو انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں فول پروف سیکیورٹی دینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

اس وقت ملک کے سیاسی منظرنامے میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو شفاف' منصفانہ اور غیر جانبدار بنانے کے لیے ہر ممکن طور پر کوشاں ہیں۔ عدلیہ اور فوج بھی انتخابی عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کر رہے ہیں۔ ملک میں پہلی بار جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور جمہوری عمل کو مضبوط مستحکم بنانے اور اسے رواں رکھنے کے لیے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے نگراں حکومت تشکیل دی گئی جس کی ذمے داری عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ہے۔

کچھ عرصے سے بعض حلقوں کی جانب سے بار بار خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ الیکشن نہیں ہوں گے اور جمہوری تسلسل میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے مگر دوسری جانب نگراں حکومت کی تشکیل اور اس کی زیر نگرانی انتخابی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے ان خدشات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا کیونکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بارہا یقین دہانی کرائی گئی کہ انتخابات بروقت ہوں گے تاہم اب نگراں وزیر داخلہ کی اس بات کہ کسی بڑی سیاسی شخصیت پر حملہ ہوا تو انتخابات متاثر ہو سکتے ہیں،اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔یہ بہت پیچیدہ اور پریشان کن صورتحال ہے جس سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے ہوں گے۔

اگرچہ انتخابی عمل کو پرامن' شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے سیاسی رہنمائوں کی جان کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمے داری ہے' ذرا سی غفلت اور لاپروائی سنگین صورتحال جنم دے سکتی ہے۔انھی خدشات کے پیش نظر نگراں وزیر داخلہ نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ سیاسی قائدین کو فول پروف سیکیورٹی دینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں' تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو برابری کی سطح پر ڈیل کیا جائے گا علاوہ ازیں سیاسی جماعتوں کے نجی محافظوں سمیت کوئی بھی اسلحے کی نمائش نہیں کر سکے گا۔

حکومت کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنمائوں پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں وہ کسی قسم کی لاپروائی کا مظاہرہ نہ کریں اور اپنی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دیں، ان کی جان کو سب سے زیادہ خطرہ سیاسی ریلیوں اور جلسوں کے دوران ہوسکتا ہے۔ چونکہ ریلیوں اور جلسوں کے دوران عوام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی ہے اس لیے کوئی بھی دہشت گرد اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے گھنائونی کارروائی کر سکتا ہے۔

سانحہ کارساز بھی ایک ریلی ہی کے دوران ہوا جس میں بہت سے افراد جاں بحق ہو گئے تھے ' بالآخر محترمہ بے نظیر بھٹو کو انتخابی مہم کے سلسلے میں راولپنڈی میں منعقدہ ایک جلسے کے بعد نشانہ بنایا گیا۔اس لیے تمام سیاستدانوں پر لازم آتا ہے کہ وہ انتخابی مہم ضرور چلائیں مگر اپنی سیکیورٹی کا خصوصی خیال رکھیں' خدانخواستہ کوئی سانحہ رونما ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف ملک میں انتشار جنم لے گا بلکہ انتخابات کا انعقاد بھی مشکل میں پڑ سکتا ہے جس کی جانب نگراں وزیر داخلہ نے اشارہ کیا ہے۔ نہ صرف انتخابی مہم کے دوران دہشت گردی کا امکان ہے بلکہ پولنگ کے روز بھی اس خطرے کے مزید بڑھنے کے خدشے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق میں بھی اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد کی گئی تھی تاکہ کوئی گڑ بڑ نہ ہو۔ اب نگراں وزیر داخلہ نے بھی اس کی یقین دہانی کرائی ہے کہ سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی سقم نہیں چھوڑا جائے گا اور نہ کوئی کوتاہی برداشت کی جائے گی۔ انتظامیہ اور پولیس پر بھی بھاری عائد ہوتی ہے کہ وہ الیکشن مہم کے دوران اور الیکشن کے روز اپنے فرائض بخوبی انجام دیں' ذرا سی کوتاہی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس وقت صوبہ خیبر پختون خوا' بلوچستان اور کراچی کے حالات تسلی بخش نہیں۔ اس موقع پر ان علاقوں میں سیکیورٹی کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر خصوصی انتظامات کرنے ہوں گے۔

نگراں وزیر داخلہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر فوجی تعینات نہیں کیے جائیں گے بلکہ فوج کو صرف کوئیک رسپانس فورس کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اس وقت ملک میں جس طرح دہشت گردی کی لہر جاری ہے اس میں ضروری ہے کہ پولیس کو فوری طور پر کسی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت دی جائے کیونکہ روایتی طریقہ کار بدلتے ہوئے حالات کا سامنا نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ پولیس بھی غیر جانبدار رہے اور پوری توجہ اپنے فرائض پر مرکوز رکھے۔ روایتی پولسنگ سے معاملات طے ہونے والے نہیں ہیں، لہذا نگراں حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔

سیکیورٹی نظام کو فول پروف بنانے کے لیے انتظامیہ' انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان موثر رابطے اور فوری اطلاعات کا نظام بھی تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے باخوبی اور فوری نمٹا جا سکے۔اگر حکومت اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور پرعزم ہوکر کام کریں تو دہشت گردوں اور قانون شکن عناصر کو شکست دینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ماضی میں بھی تمام تر خطرات کے باوجود الیکشن ہوئے ہیں اور انشااﷲ اب بھی ہوں گے۔