لیاری سے نو گو ایریا ختم نہیں کراسکتے 2ایس ایچ او چھٹی پر چلے گئے

گینگ وار کے ملزمان کی جانب سے شہریوں کے اغوا اور بھتے کی پرچیاں تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے،ذرائع.


Staff Reporter April 08, 2013
رینجرز اہلکار آپریشن کے دوران مارٹن کوارٹرکی ایک گلی میں نصب بیریئر کاٹ کر ہٹا رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

شہر سے ایک ہفتے میں دہشت گردوں کا خاتمہ کر کے نو گو ایریا ختم کرانے کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حکم پر لیاری کے2 تھانوں کے ایس ایچ اوز رخصت پر چلے گئے۔

ان پولیس افسران کا کہنا ہے کہ وہ لیاری سے نو گو ایریاز ختم نہیں کراسکتے اس لیے وہ چھٹیوں پر جارہے ہیں، ادھر لیاری گینگ وار کے ملزمان کی طرف سے بھتے کی پرچیاں تقسیم کیے جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ اس سلسلے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اس قسم کی کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی،ذرائع کے مطابق کراچی بدامنی کیس کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پولیس اور رینجرز کی جانب سے شہر سے نو گو ایریاز ختم کر کے درجنوں ٹارگٹ کلرز ، بھتہ خور اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری کے دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے سندھ پولیس کو حکم دیا کہ ایک ہفتے کے اندر دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے نو گو ایریا ختم کیا جائے۔

چیف جسٹس کی برہمی اور ایک ہفتے کا وقت دیکھتے ہوئے لیاری کے علاقے میں واقع کلری تھانے کے ایس ایچ او حاجی ثناء اﷲ اپنے ساتھیوں کو یہ بول کر 5 دن کی چھٹی لیکر چلے گئے کہ وہ لیاری سے نو گو ایریا ختم نہیں کرا سکتے، چند دنوں کی گرما گرمی ہے پھر حالات معمول پر آجائیںگے جب تک ان کی چھٹیاں بھی پوری ہو جائیں گی جبکہ ایس ایچ او چاکیواڑہ طفیل بھی یہی بول کر چھٹی لیکر چلے گئے، ذرائع نے بتایا کہ لیاری گینگ وار کے ملزمان کی طرف سے تاوان کے لیے شہریوں کے اغوا اور بھتے کی پرچیاں تقسیم کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔



ذرائع نے بتایا کہ جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کراچی بد امنی کیس کے فیصلے سنا رہے تھے اسی دوران گینگ وار کے ملزمان نے شاہ عبد الطیف بھٹائی روڈ روٹ نمبر پی ون منی بس کے اسٹاپ کے قریب غازی مسجد کے سامنے سلیم ہارڈ وئیر کی شاپ اور بلا ہوٹل پر مبینہ طور پر 5 ، 5 لاکھ روپے بھتے کی پرچیاں دے کر گئے تھے جس کے اگلے دن دکان اور ہوٹل کے مالکان اپنا کاروبار بند کر کے چلے گئے جبکہ آگرہ تاج کالونی کے ایک بلڈر آصف پٹھان سے گینگ وار کے ملزمان مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے گینگ وار کے ملزمان نے بنگالی نژاد لانچوں کے مالک سے مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کیا تھا تاہم اس نے مبینہ طور پر 2 لاکھ روپے دے کر اپنی جان چھڑائی ذرائع نے بتایا کہ کھارادر ، ککری گراؤنڈ ، جوڑیا بازار ، کھجور بازار ، لی مارکیٹ ، عید گاہ ٹمبر مارکیٹ سمیت لیاری سے متصل علاقوں میں دکانوں ، پتھاروں ، ٹرانسپورٹر اور دیگر کاروبار کرنے والوں کو بھتے کی پرچیاں بدستور مل رہی ہیں جبکہ بیشتر دکانوں اور دیگر کاروباری لوگوں سے طے شدہ بھتہ باقاعدگی سے گینگ وار کے ملزمان کو جا رہا ہے ، پولیس سے اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس اس قسم کی کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی۔

واضح رہے کراچی پولیس اور سندھ رینجرز نے شہر کے بیشتر علاقوں کے مکینوں نے شہرمیں قانون نام کی چیز نہ ہونے پر اپنی مدد آپ کے تحت ہزاروں روپے مالیت سے گلیوں کے کونوں پر آہنی بیریئر لگائے تھے،پولیس اور رینجرز شہر کے بیشتر علاقوں سے آہنی بیریئر کاٹ کر لے گئے اور عدالت کو بتایا کہ نوگو ایریا ختم کر دیے گئے حالانکہ شہریوں کے گلے کاٹنے اور بھتہ وصول کرنے والے ملزمان بدستور اپنے اپنے ٹھکانوں پر بیٹھے ہیں جس کے بارے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے نہ صرف جانتے ہیں بلکہ مبینہ طور پر اس سے رابطوں میں ہیں۔