کوچنگ نوجوان بیٹسمینوں کیلیے زہر ہے چیپل

میانداد اور گیری سوبرز جیسے سپر گلیوں میں کھیل کر سامنے آئے، سابق آسٹریلوی کرکٹر۔


Sports Desk April 08, 2013
میانداد اور گیری سوبرز جیسے سپر گلیوں میں کھیل کر سامنے آئے، سابق آسٹریلوی کرکٹر. فوٹو: رائٹرز

ISLAMABAD: سابق آسٹریلوی کپتان چیپل نے کوچنگ کو نوجوان بیٹسمینوں کیلیے زہر قاتل قرار دے دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جاوید میانداد اور گیری سوبرز جیسے سپر اسٹار گلیوں میں کھیل کر سامنے آئے، سچن ٹنڈولکر نے نیٹس اور بولنگ مشین کے سامنے نہیں بلکہ ممبئی کے میدان میں کرکٹ کا سبق پڑھا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے ایک کالم میں کیا۔ ای ین چیپل نے کہا کہ گذشتہ اگست میں میں انڈر 19 ورلڈ کپ دیکھ کر حیران رہ گیا اس میں بیٹسمینوں کے مقابلے میں فاسٹ بولرز زیادہ بہتر دکھائی دیے۔

سوائے بھارت کے انمکٹ چند کے اور کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کا فٹ ورک بہتر ہو، اس وقت مجھے وہ وقت یاد آیا جب میں نے رکی پونٹنگ کو پہلی مرتبہ بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی، میں نے پانچ منٹ میں ہی جانچ لیا کہ میرے سامنے ایک مکمل انٹرنیشنل بیٹسمین موجود ہے مگر مجھے انڈر 19 ورلڈ کپ میں انمکٹ چند سمیت کوئی بھی ایسا بیٹسمین نظر نہیں آیا جوکہ پونٹنگ جیسی صلاحیتیں رکھتا ہو، ماضی کے مقابلے میں بیٹسمینوں کے کھیل میں بہتری کی رفتار بہت سست پڑگئی ہے۔

 



ہمارے سامنے جاوید میانداد اور گیری سوبرز جیسے عظیم بیٹسمینوں کی مثالیں موجود ہیں یہ دونوں یکسر مختلف اسٹائل کے حامل ہونے کے باوجود چیمپئن بیٹسمین تھے دونوں نے نوجوانی میں زیادہ تر کرکٹ گلیوں میں کھیلی ، ایک بار جب گیری سوبرز سے کسی نے سوال کیا کہ آپ کھیلتے ہوئے تھائی پیڈ کیوں نہیں باندھتے تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں جنگلے کے لکڑی کے ساتھ بیٹنگ کرتا تھا اور میرے ساتھی مجھے پتھر پر ٹیپ لپیٹ کر اسے گول شکل دے کر میری جانب پھینکتے تھے مجھے ہرصورت گیند کو کھیلنا ہوتا تھا کیونکہ اگر میں چوکتا تو وہ مجھے زخمی کردیتی۔

اسی طرح سچن ٹنڈولکر نے نوجوانی میں ممبئی کے میدانوں میں بہت زیادہ کرکٹ کھیلی وہ نیٹ سیشنز میں جانے یا پھر بولنگ مشین کا سامنا کرنے کے بعد ایک ایک دن میں کئی کئی گرائونڈز میں جاکر کرکٹ کھیلتے تھے، انھوں نے اپنی عمر سے بڑے کرکٹرز کے ساتھ کھیلا جس سے ان کی کھیل میںنکھار پیدا ہوا۔