کراچی کو کوئی اپنانے کیلیے تیار نہیں واٹر کمیشن

نالوں کی صفائی اور قبضوں سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کو اجلاس منعقد کرکے رپورٹ پیش کرنے کاحکم


Staff Reporter March 28, 2018
ڈی سی ملیر کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلیے رپورٹ سپریم کورٹ کو ارسال، ۔ فوٹو:فائل

پانی، صحت اور صفائی سے متعلق سپوریم کورٹ کے قائم کردہ کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے نالوں کی صفائی اور قبضوں سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کو اجلاس منعقد کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

کمیشن نے ڈی جی سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی منیر سومرو کو ہٹانے کی ہدایت اور ڈی سی ملیر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے رپورٹ سپریم کورٹ کو ارسال کرنے اور سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے فور کے خلاف 22 بار منصوبے کے راستے کو تبدیل کرکے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا معاملہ نیب کو بھیجنے کی ہدایت کردی، کمیشن نے زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق ایم ڈی سائٹ کو نوٹس جاری کردیے، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ نارتھ ناظم آباد کسی فرشتے نے نہیں بنایا، کراچی میں تباہی کا سبب کچھ لوگ اور ادارے ہیں ، کراچی کو کوئی اپنانے (اون) کرنے کو تیار نہیں۔

تفصیلات کے مطابق واٹر کمیشن کا اجلاس جسٹس(ر)امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں ہوا، مئیر کراچی وسیم اختر، میئر حیدرآباد سید طیب حسین سمیت دیگر حکام پیش ہوئے، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ سیکریٹری بلدیات اور دیگر اداروں سے اجلاس ہوگیا ہے، نالوں کی صفائی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے کمیشن نے استفسار کیا کہ نالوں سے تجاوزات کیسے ختم کریں گے۔

وسیم اختر نے کہا کہ کچھ نالوں پر عمارتیں بنی ہوئی ہیں، کہیں معمولی تجاوزات ہیں نالوں کے کچھ حصوں پر کے الیکٹرک کا سامان رکھا ہوا ہے، جسٹس(ر) امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ آپ جگہوں کی نشاندہی کریں کے الیکٹرک کے حکام کو طلب کرلیتے ہیں، موسیٰ لین میں نالے پر تجاوزات کے خلاف کارروائی ہوئی، پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ موسیٰ لین نالے پر بلند عمارتیں بن چکی ہیں جنھیں رانا بہت مشکل ہے، نالوں پر قبضوں سے متعلق جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے آغا مقصود سے مکالمے میں کہا کہ کیا چاہتے ہیں کہ میں ہر جگہ جا کر خود معائنہ کروں، کمیشن سربراہ نے وسیم اختر سے مکالمے میں کہا کہ بتایا جائے کراچی کے نالے کتنے عرصے میں صاف ہوں گے، میئر کراچی نے کہا کہ صفائی شروع کردی ہے مگر تجاوزات کا مسئلہ رکاوٹ ہے، سندھ حکومت سے فنڈز درکار ہیں۔

فنڈر ملنے پر کام شروع ہوجائے گا، کمیشن نے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں پورے شہر میں گھومتا رہتا ہوں، کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں، وسیم اختر نے کہا کہ نالوں پر قائم نرسریاں ختم ہوچکیں، تین چار دن سے پی ایس ایل میں مصروف تھے، کمیشن نے کہا کہ موسی لین کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کا پی ایس ایل سے کیا تعلق ہے، میئر کراچی نے بتایا گلاس ٹاور نالے کی صفائی شروع کردی، سیکریٹری بلدیات محمد رمضان نے مئیر کراچی سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں پیسے نہیں ملے جو ملے ان کا کیا ہوا، پہلے جو پیسے دیے گئے ان کا کیا ہوا، وسیم اختر نے سیکریٹری بلدیات کو جواب میں کہا کہ آپ پرانی بحث شروع نہ کریں، جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ غلطیوں سے سیکھتے ہی نہیں، جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے آغا مقصود سے مکالمہ میں کہا ساری زندگی ایس بی سی اے میں گزاری، یہاں ہاتھ بھی گندے ہیں اور نا اہلیت کا معاملہ بھی ہے، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ نارتھ ناظم آباد کسی فرشتے نہیں بنایا۔

کراچی میں تباہی کا سبب کچھ لوگوں اور اداروں کا مسئلہ ہے، کراچی کو کوئی اون کرنے کو تیار نہیں،آغا مقصود نے اعتراف کیا کہ جی بات درست ہے، اداروں میں کوئی رابطہ کار نہیں، کمیشن نے وسیم اختر سے استفسار کیا کہ آپ پہلے چار نالے تجویز کریں جن کی صفائی پہلے کی جائے، مئیر کراچی نے منظور کالونی، کورنگی، محمود آباد اور چکور نالوں کے نام تجویز کردیے، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ گلاس ٹاور، نہر خیام، پیچر نالہ بھی صاف کریں، واٹر کمیشن کے روبرو کراچی میں کچرا اٹھانے کے معاملے پر بھی کارروائی ہوئی، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں کچرے کے انبار لگ چکے، دینا بھر میں کچرا اٹھانے کی ذمے داری بلدیاتی اداروں کی ہے، سندھ حکومت نے کچرا اٹھانے کا کام ٹھیکے پر دے دیا، آج تک کچرا اٹھانے کی رقوم کا آڈٹ نہیں ہوا، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اب تک غیر فعال ہے۔

کمیشن نے ریمارکس میں کہا کہ آپ حل بتائیں، میں تجاویز سپریم کورٹ کو ارسال کر دیتا ہوں، وسیم اختر نے کہا کہ میں ڈاکڑ فروغ اے نسیم سے مشاورت کے بعد کل تک جواب داخل کر دوں گا، نہر خیام اور گلاس ٹاور نالے کو چوڑا کرنے کا شروع کردیا گیا ہے، واٹر کمیشن کے سربراہ نے نالوں کی صفائی اور تجاوزات پر کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی، کمیشن نے کمیٹی تشکیل دیدی جس میں سیکریٹری بلدیات، مئیر کراچی، ڈی جی ایس بی سی اے ودیگر اسٹیک ہولڈرز شامل کو شامل کیا گیاہے، کمیشن نے ہدایت کی کمیٹی جمعہ کو سیکریٹری بلدیات کے دفتر میں اجلاس کرے، نالوں پر قائم تجاوزات کا خاتمہ اور صفائی کیسے کی جائے۔

فیصلے سے آگاہ کیا جائے، کمیشن نے استفسار کیا کہ اگر ہاؤسنگ اسکیمز کی اجازات نہ دی جاتی تو وادھو واہ کا علاقہ گٹر نہ بنتا، کسی غریب آدمی نے ہاؤسنگ سوسائٹی میں عمر بھر جمع پونجی لگائی اس کیا ہوگا، ان سوسائٹیز کا سیوریج کا پانی کہاں جائے گا، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ کیا ڈیزائین کررہے ہیں، سارا گند لاکر جمع کردیا ہے، کتنے لے آؤٹ پلان اب پینڈنگ میں ہیں، کمیشن نے استفسار کیا کہ جس ڈسٹرکٹ کا ماسٹر پلان نہیں وہاں ہاؤسنگ اسکیمز کیسے بن رہی ہیں، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پانی کی فراہمی شہریوں کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں، کمیشن نے ڈی جی ایس بی سی اے و دیگر کو حکم دیا کہ جب تک سندھ میں ڈسٹرکٹ کے ماسٹر پلان بنائے جائیں اس وقت تک کوئی ہاوسنگ اسکیمز نہ بنے لکھ کر دیں۔

ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ 310 ہاؤسنگ اسکیمیں این او سی نہ ہونے کی وجہ سے پورے سندھ میں منسوخ کی ہیں، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نے کہا کہ ندی کنارے دریا کنارے بنائی گئی اسکیمز غیر قانونی ہیں، جھوٹی لیز دی جارہی ہیں ریکٹ بنے ہوئے ہیں جو جھوٹی لیز کراتے ہیں، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ بیٹر منٹ چارجز کے نام پر بندر بانٹ بند کی جائے، بیٹرمنٹ چارجز سے ایس بی سی اے کا کیا تعلق،حیدرآباد کے شہری نے بتایا کہ جس روڈ سے کمیشن گزرتا ہے وہاں کی صفائی کی جاتی ہے، مئیر حیدر آباد بولے کہ زیر زمین پانی کا معاملہ شدت اختیار کر رہا ہے، ٹائفائیڈ کا ایشو سامنے آگیا،کمیشن نے ریمارکس دیے جن کی ذمے داری ہے وہ کچھ کرہی نہیں رہے، سیکریٹری بلدیات نے بتایا کہ حیدر آباد کے لیے 26 کروڑ کی اسکیم منظور کیں، اس سال حیدر آباد میں 2 ارب روپے کی اسکیمز بنا کہ دی گئیں۔

کمیشن نے مئیر حیدر آباد کو ہدایت کی سیکریٹری بلدیات کے ساتھ بیٹھ کر مسائل پر تبادلہ خیال کریں، سیکریٹری بلدیات نے کہا کہ واٹر میٹرز کی تنصیب کے لیے سمری وزیر اعلی سندھ کو ارسال کردی،واٹر کمیشن کے روبرو شہر میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس سے متعلق کارروائی ہوئی، شہری نے کہا کہ سائٹ میں آج بھی غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں، ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ نے کہا کہ میں نے دورہ کیا ہے، یہ بات درست ہے، شہری نے کہا کہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس میں سائیٹ ایسوسی ایشن کا ہاتھ ہے۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ زیر زمین پانی استعمال کرنے کا اختیار سائٹ ایسوسی ایشن کو ہے نہ ہی کسی فیکٹری کو، کمیشن نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ایم ڈی سائیٹ خود پیش ہوں، زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق کمیشن نے ایم سائیڈ کو نوٹس جاری کر دیے، محکمہ صحت کے معاملات پر کارروائی کمیشن نے چیف سیکریٹری کی عدم موجودگی پر آئندہ تک ملتوی کردی۔