وحید برادران گمشدگی کیس کالزڈیٹا فراہم نہ کرنے پر عدالت برہم

دونوں کراچی ایئرپورٹ کی فوٹیج میں ہیں لیکن باہر نکلنے کے شواہد نہیں ملے،پولیس


Staff Reporter August 10, 2012
دونوں کراچی ایئرپورٹ کی فوٹیج میں ہیں لیکن باہر نکلنے کے شواہد نہیں ملے،پولیس۔ فوٹو ایکسپریس

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے اسامہ وحید اور اجمل وحید گمشدگی کیس میں عدالتی حکم کے باوجود کالز کا ڈیٹا فراہم نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بڑی سیلولر کمپنی کے وکیل فیصل کمال ایڈوکیٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ کمپنی کے اعلیٰ حکام تک عدالت کی ناراضی کوپہنچادیا جائے، عدالتی حکم کی خلاف ورزی پرتوہین عدالت کی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے،جمعرات کو سماعت کے موقع پر عدالت کوپولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ یکم جولائی2011کی کراچی ایئرپورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہے،اسامہ وحید اور اجمل وحید لائونج میں نظر آئے مگر ایئرپورٹ پر موجود تمام ٹیکسی سروس کے ریکارڈ کے مطابق انھوں نے کسی بھی ٹیکسی میںسفر نہیں کیا اور نہ ہی ان کے باہر آنے کا کوئی ثبوت ملا،پولیس کی تفتیش جاری ہے فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

فاضل عدالت نے سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی، مسمات امینہ بتول نے سید عبدالوحید ایڈوکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں کہا ہے کہ ان کے شوہر اجمل وحید اپنے بھائی اسامہ وحید کو لینے کیلیے راولپنڈی گئے جہاں میڈیا کے نمائندوں کے سامنے اسامہ وحید کو اڈیالہ جیل سے نکلنے کے بعد اپنے ہمراہ لیا، اور یکم جولائی 2011کو ایک نجی ایئر لائن کے ذریعے کراچی پہنچے مگر انہیں ایئرپورٹ پر ہی گرفتار کرلیا ۔