با اثر شخصیت کے محافظوں کاپولیس افسراوراہلکاروں پر تشدد

اضافی نفری نے موقع پر پہنچ کرگارڈز سمیت6افراد کو گرفتار کرلیا، مقدمہ درج


Staff Reporter April 10, 2013
ڈیفنس میں پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزمان لاک اپ میں بند ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

ڈیفنس کے علاقے خیابان شہباز پر با اثر شخصیت کے گارڈز نے ایس ایچ او گذری انسپکٹر سہیل احمد، کانسٹیبل دلاور ، کانسٹیبل محمد اسلم اور کانسٹیبل فرید عباسی کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا۔

پولیس پر تشدد کی اطلاع ملنے پر اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور پولیس پر تشدد کرنے والے 6 افراد کیپٹن ( ر ) شہریار درانی اس کے بھائی شہباز ، فصیح الرحمن ، عبد الرحمن زہری ، محمد اشرف زہری اور راشد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ایس ایچ او گذری سہیل احمد کی مدعیت میں سرکاری کام میں مداخلت کرنے کی ایف آئی آردرج کر لی۔

 



انسپکٹر سہیل خان نے ایکسپریس کو بتایا کہ ڈیفنس خیابان اتحاد پرکار نمبر اے وی ایچ 169 اور کار نمبر اے آر وائی721 میں تصادم ہوا تھا جس پر کار نمبر اے وی ایچ 169 کے ڈرائیور فاروق اور دوسری کار کے ڈرائیور کیپٹن (ر) شہریار میں تلخ کلامی ہو گئی شہریار کے گارڈز فاروق سے اس کی کار کے کاغذات چھین کر لے جا رہے تھے کہ اس نے اپنے موبائل فون سے مدد گار15پولیس کو اطلاع کردی جس پر پولیس حرکت میں آگئی اور خیابان شہباز پر فاروق کی کار اور دوسری کار کو روک لیا۔



بااثر شخصیت کے گارڈز کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھٹی ہوئی ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

جہاں شہریار کی پولیس سے بھی تلخ کلامی ہوئی، پولیس نے دونوں کاروں کے ڈرائیورز کو تھانے چل کر بیان دینے و کہا اسی دوران شہریار نے ایک با اثر شخص ثنا اﷲ زہری کو فون کر کے بتایا جس کے کچھ دیر بعد ایک رینج رو ور اور ایک لینڈ کروزر بھر کر لوگ وہاں پہنچ گئے اور پولیس پر تشدد شروع کر دیا، واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی اور وہاں سے6افراد کو گرفتار کر لیا۔