سندھ میں آؤٹ آف ٹرن ترقیوں و بھرتیوں کا 5 سالہ ریکارڈ طلب

2009سے کی گئی ترقیوںکابھی ریکارڈطلب،سائٹ لمیٹڈکی افسرکی محکمہ قانون میں تقرری پراظہاربرہمی


Staff Reporter April 10, 2013
طبیعت خراب ہے،سیکریٹری سروسز،وہ ہم ٹھیک کردینگے،جسٹس امیرہانی،سروسزاسٹرکچرتباہ کردیاکوئی پوچھنے والانہیں،عدالت عظمیٰ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ میں تعینات او پی ایس افسران کی فہرست طلب کرلی ہے۔

عدالت نے چیف سیکریٹری کوڈیپوٹیشن افسران سے متعلق رپورٹ اورحلفیہ بیان جمع کرانے کی ہدایت کی کہ اب صوبے میں کوئی ڈیپوٹیشن افسرنہیں ہے ،بینچ نے اصل محکموں میں واپس بھیجے گئے افسران کو فوری طور پرچارج چھوڑنے کی ہدایت کی،عدالت نے حکومت کوہدایت کی کہ واپس بھیجے گئے افسران کوان اصل محکموں سے ہی تنخوا ادا کی جائے، فاضل بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت چاہے تو گڑے مردے کوآسمان پر پہنچادے اورنہ چاہے توآدمی سڑک پرایڑیاں رگڑرگڑکرمرجائے ۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس امیرہانی مسلم پر مشتمل بینچ نے منگل کو ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی جبکہ آوٹ آف ٹرن پروموشنزاورملازمتیں ضم کیے جانے کے خلاف درخواستیں علیحدہ کرتے ہوئے ان کی سماعت اسلام آبادمیں16اپریل کو کرنے کافیصلہ کیا،فاضل بینچ نے آبزروکیاکہ آوٹ آف ٹرن پروموشنز اورملازمت ضم کیے جانے کے نئے قانون کواسلام آبادمیں چیلنج کیا گیا ہے ،اس لیے ان معاملات سے متعلق تمام درخواستوں کی سماعت ایک ساتھ ہوگی ، فاضل بینچ نے ڈیپوٹیشن افسران سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے موقع پرریمارکس دیے کہ سروس اسٹرکچر کی تباہی کی انتہاہوگئی،قانون کے تحت کام کرنے کیلیے سپریم کورٹ کے حکم کا انتظار کیا جاتا ہے۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی اورجسٹس امیرہانی مسلم پرمشتمل بینچ نے منگل کو ڈیپوٹیشن افسران سے متعلق سماعت شروع کی توسیکریٹری سروسزنصیرجمالی نے عدالت کوبتایاکہ حکومت سندھ نے ڈیپوٹیشن پر تعینات155افسران کوان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا، انھوں نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن کی نقل بھی عدالت میں پیش کی،عدالت کو بتایا گیاکہ18افسران کوان کی خصوصی مہارت کی وجہ سے کچھ اہم منصوبوں کیلیے تعینات کیاگیاہے جن میں وہ 11افسران بھی شامل ہیں جنھیں فاضل عدالت پہلے ہی ڈیپوٹیشن پر کام جاری رکھنے کی اجازت دے چکی ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ یہ افسران کن منصوبوں پر کام کررہے ہیں اور یہ منصوبے کب تکمیل کو پہنچیں گے،ان منصوبوں کی تکمیل پر افسران کو اصل محکموں میں واپس بھیجاجائے۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے متعدد او پی ایس افسران تعینات کردیے گئے ہیں،گریڈ17کا افسرگریڈ20میں کام کررہاہے اوراس کے ماتحت گریڈ18اورگریڈ19کے افسران کام کررہے ہیں جوذیادتی ہے۔چیف سیکریٹری کے وکیل یاور فاروقی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایاکہ محکمہ تعلیم کے بعض سرکاری افسران میڈیاپرچیف سیکریٹری کے خلاف ایسے موقع پربیان دے رہے ہیں جب معاملات سپریم کورٹ میں زیر التواہیں اس سے چیف سیکریٹری کونقصان ہوسکتاہے،جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ ہم نے ٹی وی پروگرام نہیں دیکھا،نہ ہی ٹی وی دیکھ کرفیصلہ کرینگے ہمیں اللہ کوجواب دینا ہے لیکن جب حکومت کا پرنسپل لاافسر خود کہہ رہا ہو کہ غلط کام ہواہے تو کسی دوسرے کو آپ کیسے روک سکتے ہیں تاہم فاضل بینچ نے کمرہ عدالت میں موجود سرکاری افسرکوہدایت کی کہ وہ عدالت میں زیر سماعت معاملات پرمیڈیا میں اظہار خیال نہ کریں۔



جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ ہم میڈیاکونہیں روک سکتے،کسی کوتکلیف ہے تودرخواست دائر کردے،اطلاعات تک رسائی عوام کاحق ہے ،اس موقع پر سیکریٹری سروسزنصیر جمالی نے بتایا کہ وہ کچھ دن آرام کرنااورمحکمہ فوڈمیں جاناچاہتے ہیں،کل سے دوسرا سیکریٹری ان کی جگہ چارج لے گا،جسٹس سرمدجلال عثمانی نے استفسار کیا کہ آپ پرکوئی دبائو ہے تو عدالت کو بتائیں،نصیر جمالی نے کہا کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں جس پرجسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا وہ ہم ٹھیک کر دیںگے آپ پریشان ہوں اور نہ کسی کے دبائو میں آئیں،یہ نیک کام ہے اور یہ بھی عبادت ہے ۔نصیر جمالی نے میں رات کو سو نہیں سکتاکام کا بہت دبائو ہے،جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ہمیں بھی نیند نہیں آتی،آپ کو آرام کاموقع دیںگے،آپ کچھ دن آرام کرکے آجائیں اللہ بہتر کرے گا۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا ہمیں حقائق بتائیں کون آپ پر دبائو ڈال رہاہے، نصیر جمالی نے کہا کہ میں پریشان ہوں مجھے جانے دیں،بینچ کے اصرار پر سیکریٹری سروسز نے اعتراف کیا کہ انہیں عدالت سے نہیں عدالت کے باہر سے پریشانی کا سامناہے،عدالت نے ہدایت کی کہ آپ فی الحال کام جاری رکھیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں،آپ بہت اچھا کام کررہے ہیں۔اس موقع پرعدالت نے سائٹ لمیٹڈکی افسرڈاکٹرثروت فہیم کی محکمہ قانون میں تعیناتی پرشدیدبرہمی کااظہارکرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ ہرقانون ہرقاعدے کو نظرانداز کردیا گیااورکوئی پوچھنے والانہیں،ان کی تقرری کے خلاف پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے افسرمحبوب شاہ نے درخواست دائرکی تھی،عدالت نے ڈیپوٹیشن ،انضمام اوراو پی ایس افسران سے متعلق درخواستوںکی سماعت16اپریل تک ملتوی کردی،آئندہ سماعت پرنسپل سیٹ اسلام آبادمیں ہوگی۔

سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے حکومت کو مزیدہدایت کی کہ یکم جنوری 2013سے 16مارچ تک کی گئی بھرتیوں اوراس کے طریقہ کارکے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی جائیں،فاضل بینچ نے15فروری 2013 سے16 مارچ تک ٹرانسفرکیے گئے ایسے افسران کی فہرست بھی طلب کی گئی ہے جنھیں مختلف محکموں میں تعینات کیاگیاہے ان کی پرانی تعیناتی کے مقام کی بھی تفصیلات فراہم کی جائیں،عدالت نے ایسے افسران کی بھی فہرست مانگی ہے جنہیں عدالت کے اس حکم کے بعدضم کیاگیاہے کہ انہیں ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیاجائے،ملازمت ضم کرنے کی تاریخ سے بھی عدالت کو آگاہ کیاجائے۔

بینچ نے نان کیڈر افسران کو کیڈر اسامیوں پرضم کرنے کے بارے میں بھی تفصیلات طلب کی ہیں،عدالت نے 2008سے 16مارچ 2013 تک5سال کی مدت میں ضم کیے گئے تمام افسران اوران کے پرانے محکموں کی تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ،سپریم کورٹ آف پاکستان نے آوٹ آف ٹرن پروموشنزکے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعدحکومت کی جانب سے 31مارچ 2009سے 16مارچ تک دی جانیوالی آوٹ آف ٹرن پروموشنز کاریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

بینچ نے اصل محکموں میں واپس بھیجے گئے افسران کوفوری طور پر چارج چھوڑنے کی ہدایت کی۔عدالت نے آوٹ آف ٹرن پروموشنز اور ملازمتیں ضم کیے جانے کے خلاف درخواستیں علیحدہ کرتے ہوئے ان کی سماعت اسلام آبادمیں 16اپریل کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، فاضل بینچ نے آبزرو کیاکہ آوٹ آف ٹرن پروموشنز اور ملازمت ضم کیے جانے کے نئے قانون کواسلام آباد میں چیلنج کیا گیاہے،اس لیے ان معاملات سے متعلق تمام درخواستوں کی سماعت ایک ساتھ ہوگی۔