شیر شاہ غیر قانونی امتحانی مرکز میں میٹرک کا پرچے لینے کا انکشاف

بورڈ کی ویجلنس ٹیم نے بیالوجی کا پرچہ اورکاپیاں قبضے میں لے لیں،اسکول کیخلاف کارروائی شروع،الحاق منسوخ ہونے کا امکان


Staff Reporter April 11, 2013
ڈائریکٹوریٹ اسکولزکراچی اور اس کے ماتحت افسران کی جانب سے کسی بھی سرکاری اسکول کا دورہ نہیں کیا جارہا. فوٹو: ایکسپریس/ فائل

ثانوی تعلیمی بورڈکراچی کے تحت جاری میٹرک کے امتحانات سے صوبائی محکمہ تعلیم مکمل طور پر لاتعلق ہوگیا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ اسکولز کراچی کی جانب سے نقل کی روک تھام کیلیے کسی قسم کی کارروائی سامنے نہیں آسکی،دوسری جانب ویجلنس ٹیموںکی عدم فعالیت اور سیکیورٹی اداروںکی غفلت کے سبب نقل مافیاسرگرم ہے، نقل مافیاکی جانب سے شیرشاہ کے علاقے میں غیرقانونی امتحانی مرکز میں پرچے لینے کا انکشاف ہوا ہے جس پر چھا پہ مارکربورڈ انتظامیہ نے امتحانی کاپیاں اپنے قبضے میں لے لیں ہیں۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات نعمان احسن نے ''ایکسپریس'' کو بتایا انھیں شیرشاہ کے علاقے میں رائزنگ سن چلڈرن اکیڈمی کے قریب ہی ایک غیرقانونی امتحانی مرکز کے قیام کی اطلاع ملی تھی جس پربورڈکی ٹیم جب متعلقہ اسکول کی عمارت میں چھاپہ ماراتومعلوم ہواہے کہ رائزنگ سن چلڈرن اکیڈمی کی انتظامیہ کی جانب سے ہی مذکورہ امتحانی مراکز چلایا جارہا ہے۔



جس میں صبح کے وقت بیالوجی کا پرچہ لیاگیا تھااور ٹیم کے پہنچنے پرامتحانی کا پیوں کے بنڈل باندھے جارہے تھے، ناظم امتحانات کے مطابق اسکول انتظامیہ نے بورڈ کی جانب سے نامزدہ کردہ امتحانی مرکزکے بجائے دوسرے کیمپس میں امتحانی مرکزبنارکھا تھا جس پراسکول کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے، امتحانی مرکز دوسرے اسکول میں منتقل کیا جارہا ہے ، اعلیٰ حکام کے احکامات پراسکول کا الحاق بھی منسوخ کیا جائیگا۔

مزید براں بورڈ انتظامیہ اور سینٹر سپرنٹنڈنٹس نے اقرا پیراماؤنٹ سیکنڈری اسکول شاہ فیصل کالونی، درانی گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نارتھ ناظم آباد ،گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول لیاقت آباد نمبر4، پی آئی اے ماڈل سیکنڈری اسکول ، این جے وی گورنمنٹ ہائی اسکول ،جیکل ہارڈ اسکول سولجربازاراورگورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول ناظم آباد نمبر3سمیت دیگرامتحانی مراکزسے27 طلبہ کونقل کرتے ہوئے پکڑلیا، واضح رہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم میٹرک بورڈ کے تحت جاری سالانہ امتحانات سے مکمل طورپرلاتعلق ہے۔

ڈائریکٹوریٹ اسکولزکراچی اور اس کے ماتحت افسران کی جانب سے کسی بھی سرکاری اسکول کا دورہ نہیں کیا جارہا اورسرکاری اسکولوں میں نقل کی اطلاعات آنے کے باوجود کوئی کارروائی سامنے نہیں آرہی ہے ، یاد رہے کہ سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہونے سندھ بھر کے ڈائریکٹرز اسکولزکو امتحانی مراکز کا دورہ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔