گٹکا مافیا کے خلاف کارروائی

پاکستان کی تاریخ میں ضبط ہونے والے ممنوعہ گٹکوں کی یہ پہلی بڑی کھیپ ہے۔


Editorial April 11, 2013
محکمہ کسٹمز کے شعبہ آر اینڈ ڈی نے دو ماہ قبل دبئی سے اسمگل ہونے والا کروڑوں روپے مالیت کا انڈین گٹکا ضبط کر کے نامعلوم اسمگلروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

ملک میں گٹکا جیسی مضر صحت اشیا کی پابندی کے باوجود شہر شہر اس کی فروخت جاری ہے۔ کراچی میں اگلے روز کسٹمز کی کارروائی کے دوران کروڑوں روپے کا اسمگل شدہ گٹکا ضبط ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ خبر کے مطابق اس ضبط شدہ گٹکے کی مالیت کم از کم 13 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ بھارتی ساخت کا یہ گٹکا دبئی کے راستے اسمگل ہو کراچی لایا جا رہا تھا۔

محکمہ کسٹمز کے شعبہ آر اینڈ ڈی نے دو ماہ قبل دبئی سے اسمگل ہونے والا کروڑوں روپے مالیت کا انڈین گٹکا ضبط کر کے نامعلوم اسمگلروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے، پاکستان کی تاریخ میں ضبط ہونے والے ممنوعہ گٹکوں کی یہ پہلی بڑی کھیپ ہے۔ اطلاعات کے مطابق4 فروری کو دبئی سے پاکستان پہنچنے والے 40 فٹ کے حامل 5 کنٹینرز کے بل آف لینڈنگ میں بلڈنگ میٹریل یعنی عمارتی سامان ظاہر کیا گیا تھا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود ان کنسائمنٹس کو ریلیز کرانے کے لیے محکمہ کسٹمز میں کوئی گڈز ڈیکلریشن داخل نہیں کرائی گئی جس سے کنسائمنٹ مشکوک ہو گئی، جب تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ان پانچ کنٹینرز کی فزیکل ایگزامنیشن کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل میں تعینات کسٹمز ایگزامینشن اسٹاف نے 'کے آئی سی ٹی انتظامیہ' کی موجودگی میں ان کنٹینرز کے سیل کھولے۔

تب انکشاف ہوا کہ پانچوں کنٹینرز میں مختلف برانڈ کے انڈین گٹکے کے21 ہزار 540 پائوچ موجود ہیں، جن کی مالیت 12 کروڑ 92 لاکھ 40 ہزار روپے کے لگ بھگ ہے۔ گٹکے کا مجموعی وزن 38.5 ٹن بتایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ہر قسم کے گٹکوں کی درآمدات پر مکمل پابندی عائد ہے اور اگر متعلقہ اسمگلرز ان گٹکوں کی کلیرنس میں کامیاب ہو جاتے تو معاشرے کا ایک بڑا حصہ اس کے استعمال سے موذی امراض کا شکار ہو سکتا تھا، ہماری نوجوان نسل و بچوں سمیت اب خواتین بھی گٹکے کھانے کی بری عادت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

گٹکے اور ماوا جیسی اشیا کھانے سے منہ کا کینسر عام ہوتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سماج دشمن اسمگلرز کو پکڑنے کے ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں علاقائی طور پر بننے والے گٹکے کے کارخانوں کا بھی قلع قمع کیا جائے تا کہ پاکستان میں صحت مند معاشرہ پنپ سکے۔ یہ تو ملک کی بحری بندر گاہ پر پکڑے جانے والے گٹکے کی کہانی تھی لیکن ملک میں داخلے کے دیگر راستوں سے کس قدر گٹکا اندر آ رہا ہے۔ کراچی میں پکڑے جانے والے گٹکے کا وزن اڑتیس ٹن سے متجاوز بتایا گیا ہے جو کہ ظاہر ہے کہ صرف اسی ایک شہر میں استعمال کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کو پورے ملک میں پھیلایا جانا مقصود ہو گا۔