اولڈ سٹی ایریا میں بھتے کی وارداتیں عروج پر پہنچ گئیں

پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی بن گئی، ذرائع


Staff Reporter April 12, 2013
تاجروں نے بھتہ خوری سے متعلق شکایات درج کرانے کے بجائے کاروبار عارضی طور پر بند کردیا. فوٹو: فائل

اولڈ سٹی ایریا میں بھتہ خوری کی وارداتیں بدستور جاری ہیں، روزانہ 6 سے 8 تاجروں کو بھتے کیلیے پرچیوں کے ساتھ ساتھ گولیاں بھی بھیجی جا رہی ہیں ۔

تاجروں نے بھتہ خوری سے متعلق شکایات درج کرانے کے بجائے کاروبار عارضی طور پر بند کردیا ، پولیس اور رینجرز اولڈ سٹی ایریا میں خاموش تماشائی بن کر رہ گئی ،بھتہ مافیا کے کارندے جہاں چاہیں ،جب چاہیں ،جسے چاہیں بھتے کی پرچی دے کر رقم وصول کرلیتے ہیں، تفصیلات کے مطابق شہر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف جہاں پولیس اور رینجرز کی جانب سے تابڑ توڑ ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جا رہی ہیں، وہیں کراچی کے سب بڑے تجارتی علاقے اولڈ سٹی ایریا میں بھتہ خوری ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔

حالیہ دنوں میں روزانہ 6 سے8 چھوٹے بڑے تاجروں کو بھتے کے لیے پرچیوں کے ساتھ ساتھ گولیاں بھی بھیجی جا رہی ہیں اور بھتہ خوروں کی جانب سے تاجروں سے 5 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک طلب کیے جا رہے ہیں، بھتہ نہ دینے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں اور دستی بم کے حملے بھی کیے گئے جن تاجروں سے بھتہ طلب کیا گیا ہے ان میںعام دکانداروں اور مرغی کا گوشت فروخت کرنے والوں سے لے کر سونے کا کاروبار کرنیوالے تاجر تک شامل ہیں، زیادہ تر اولڈ سٹی ایریا میں بھتے کی وارداتیں رنچھور لائن، کھارادر ، گارڈن اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ہو رہی ہیں۔



اولڈ سٹی ایریا کے تاجروں نے بھتہ خوری سے متعلق شکایات درج کرنے کے بجائے اپنا کاروبار عارضی طور پر بند رکھنے کو ترجیح دی ہے،ایک چھوٹے تاجر نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں بھتہ خوروں کی جانب سے فون پر مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں جس کی وجہ سے انھیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، انھوں نے بتایا کہ متعدد تاجروں نے اپنا کاروبار عارضی طور پر بند رکھا ہوا ہے اور جب حالات بہتر ہوں گے تو وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کردیں گے، دوسری جانب اولڈ سٹی ایریا میں پولیس اور رینجرز اولڈ سٹی ایریا میں خاموش تماشائی بن کر رہ گئی۔

بھتہ خور جب چاہیں اور جسے چاہیں بھتے کی پرچیاں دے کر چلے جاتے اور بھتہ وصول کر لیتے ہیں ، ادھر سی پی ایل سی ذرائع کے مطابق رواں سال کے ابتدائی3 ماہ کے دوران 421 بھتہ خوری کی شکایات رپورٹ ہوئی ہیں ، انھوں نے بتایا کہ رواں سال کے پہلے ماہ میں بھتہ خوری کی 148فروری میں 138اور مارچ میں 106رپورٹ ہوئی ہیں۔

، واضح رہے کہ بھتہ خوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے انسداد کے لیے خصوصی سیل قائم کیا گیا تھا جوکئی ماہ سے غیرفعال ہے،اسی وجہ سے بھتہ خور سر گرم ہیں اور ان کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ وہ دن دہاڑے صنعت کاروں ،چھوٹے تاجروں اور دکانداروں سے بھتہ وصول کرکے فرار ہوجاتے ہیں ۔