انسداد پولیورضاکاروں کی یومیہ اجرت 500 روپے نہ کی جاسکی

3ماہ گزرنے کے بعد بھی اجرت میں اضافے کے فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا


Staff Reporter April 12, 2013
پولیومہم میں کام کرنے والے رضاکاروں نے ایک بارپھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کے پیش نظر رضاکاروں کے یومیہ معاوضے کے اضافے پر عملدرآمدکیاجائے. فوٹو: فائل

قومی پولیومہم میں کام کرنے والے رضاکاروں کی یومیہ اجرت 500 روپے کے فیصلے پر عملدرآمدنہیں کیا جاسکا ۔

یہ فیصلہ سابق حکومت نے عالمی ادارہ صحت کے سا تھ ہونے والے اجلاس میں کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پولیومہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں کو 250 روپے کی بجا ئے500روپے یومیہ دیے جائیں گے۔

یہ فیصلہ گزشتہ سال دسمبر میں4خواتین سمیت6پولیورضاکاروں کے قتل کیے جانے کے بعدکیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پولیومہم کے رضاکار جان پرکھیل کرمہم میں حصہ لے رہے ہیں اور انھیں 250 روپے یومیہ معاوضہ دینا نامناسب ہے لہٰذا ان رضاکاروں کو250روپے عالمی ادارہ صحت اور250 روپے حکومت سندھ دے گی اس طرح فی رضاکار کو پولیو مہم کے دوران یومیہ5سوروپے معاوضہ دیا جائے گا اورفی رضاکارکو تین دن پولیومہم میں حصہ لینے پر 15سوروپے دیے جائیں گے لیکن3ماہ گزرنے کے بعد حکومت سندھ کی جانب سے پولیورضاکاروں کے معاوضے میں اضافے کے فیصلے پرعملدرآمد نہیں کیاجاسکا۔



پولیومہم میں کام کرنے والے رضاکاروں نے ایک بارپھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کے پیش نظر رضاکاروں کے یومیہ معاوضے کے اضافے پر عملدرآمدکیاجائے اورپولیورضاکاروں کوتحفظ فراہم کیاجائے،اس حوالے سے سیکریٹری صحت ڈاکٹر سریش کمار نے بتایا کہ پولیومہم میں کام کرنے والے رضاکاروں کے یومیہ اضافے کی سمری متعلقہ حکام کوبھیج دی گئی ہے ، ادھر عالمی ادارہ صحت نے اپنی جاری رپورٹ میں بتایاہے کہ گڈاپ کے سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس نگیٹوآیا ہے، گزشتہ سال گڈاپ کے سیوریج کے پانی کے نمونے حاصل کیے گئے تھے جس میں پولیووائرس کی تصدیق کی گئی تھی تاہم اب سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی نہیں اوراس پانی کوپولیو وائرس