چیف جسٹس نے سعد رفیق کو ’’لوہے کے چنوں‘‘ سمیت روسٹرم پر طلب کرلیا

ویب ڈیسک  ہفتہ 14 اپريل 2018
خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ ہم لوہے کے چنے ہیں جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا اس کے دانت ٹوٹ جائیں گے فوٹو: فائل

خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ ہم لوہے کے چنے ہیں جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا اس کے دانت ٹوٹ جائیں گے فوٹو: فائل

 لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریلوے میں 60 ارب روپے خسارے کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو ’’لوہے کے چنوں‘‘ سمیت روسٹرم پر طلب کرلیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فاضل بنچ نے سپریم کورٹ رجسٹری میں ریلوے میں 60 ارب روپے خسارے کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ سعد رفیق صاحب روسٹرم پر آئیں اور لوہے کے چنے بھی ساتھ لے کر آئیں، جس پر خواجہ سعد نے کہا کہ آپ ہمارے بھی چیف جسٹس ہیں، یہ بیان آپ کے لیے نہیں تھا سیاسی مخالفین کے لیے تھا۔

’’ آپ چلے جائیں ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں گے ‘‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وہ وقت چلا گیا جب عدالتوں کی بے احترامی کی جاتی تھی، ہم ابھی آپ کی ساری تقریروں کا ریکارڈ منگواتے ہیں اور خسارے کا بھی، بتائیں ابھی تک ریلوے میں کتنا خسارہ ہوا ہے۔ جب تک عدالت نہیں کہے گی آپ چپ رہیں گے، جب تک ہم کہیں گے آپ یہیں کھڑے رہیں گے۔ بولنے کی استدعا مسترد ہونے پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگر مجھے نہیں سننا تو پھر میں چلا چاتا ہوں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ جس نیت سے آئے ہیں وہ ہم جانتے ہیں، آپ چلے جائیں ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے سعد رفیق سے استفسار کیا کہ آپ کے دور میں کئی حادثے ہوئے، فوجی ٹرین حادثے میں کتنے افراد شہید ہوئے، خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ 17 فوجی شہید ہوئے جو ڈرائیور کی تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے بھی ساری ذمہ داری ڈرائیور پر ڈال دی ہے۔

’’ سیاسی تقریر کرنے نہیں، کارکردگی دکهانے آیا ہوں ‘‘

سماعت کے دوران چیف جسٹس اور خواجہ سعد رفیق کے درمیان انتہائی کڑوے جملوں کا تبادلہ ہوا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں سیاسی تقریر کرنے نہیں، کارکردگی دکهانے آیا ہوں، ہم نے آپ سے شاباش لیکر جانی ہے، ہم نے میرٹ پر ڈی جی لیگل کو ریلوے میں تعینات کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو سیاسی تقریر کی اجازت بهی کوئی نہیں دے گا، اگر آپ اچھا کام کریں گے تو شاباش بھی دیں گے،اگر آپ کسی عام آدمی کو ڈی جی لیگل لگاتے تو سمجھتا کہ میرٹ پر تعیناتی کی گئی ہے، چند دن پہلے آپ جہاں گئے تهے وہاں آپ جانتے ہیں آپکی باڈی لینگویج کیا تهی؟ خواجہ سعد رفیق نے چیف جسٹس کے استفسار پر بتایا کہ میری رشتہ داری اور شہر داری ہے، وہاں میں چائے پینے گیا تها، اپنے رشتہ داروں کے پاس چائے پینے جانا میرا حق ہے۔

’’ جہاد کر رہا ہوں اور مجهے کچھ نظر نہیں آ رہا ‘‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چپ ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ سب کو پتہ چل جائے گا کہ آپ کہاں گئے تهے، مجهے پتہ ہے کہ آپ کون سی چائے پینے گئے تهے اور کیا سفارش کروانے گئے تهے، میں جہاد کر رہا ہوں اور مجهے کچھ نظر نہیں آ رہا، جتنے مرضی بڑے چہرے لے آئیں، بات صرف میرٹ کی سنوں گا۔ سیاسی باتیں چهوڑیں، آپ ریلوے کی کارکردگی پر آئیں ورنہ آپ کو براہ راست توہین عدالت کا نوٹس دوں گا۔

’’ ہو سکتا ہے آپ کو دوبارہ جیل جانا پڑ جائے ‘‘

وزیر ریلوے نے کہا کہ مجهے آپ کے اس کمنٹ سے دلی افسوس ہوا، آپ ہمارے چیف جسٹس ہیں، آپ کو مجهے بولنے کا موقع دینا چاہیئے، میں خواجہ رفیق شہید کا بیٹا ہوں اور اپنے والد کی راہ پر ہی چل رہا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ میں خواجہ رفیق شہید کی بہت عزت کرتا ہوں، ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا ہے، مجهے پتہ ہے آپ اپنے والد کی راہ پر کتنا چل رہے ہیں، کاش خواجہ رفیق شہید کی اولاد ایک فیصد بهی ان کی راہ پر چلی ہوتی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم اسی راہ پر ہیں، میں نے عدلیہ بحالی کیلئے جیل کاٹی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہو سکتا ہے آپ کو دوبارہ جیل جانا پڑ جائے، جس پر سعد رفیق نے کہا کہ کوئی بات نہیں، میں پہلے بهی بارہ مرتبہ جیل کاٹ چکا ہوں۔ عدالت نے پاکستان ریلوے کا مکمل آڈٹ کروانے کا حکم دے دیا۔

آج بہت بددل اور دل گرفتہ ہوں، سعد رفیق

سماعت کےبعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ملک میں آمریتوں کا سامنا کیا، ضیا الحق کے ساتھیوں میں شامل نہیں، پونے پانچ سال ریلوے کے لیے پورے دل و جان سے کام کیا لیکن آج بہت بددل اور دل گرفتہ ہوں، زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا، پھر کسی بات پر پکڑا جاؤں گا، پوری نیک نیتی سے عدالت میں آئے اور ریلوے پر بات کرنا چاہتے تھے، جب ریلوے کا محکمہ ملا  تو ادارہ 18 ارب کماتا تھا تو 50 ارب کا خسارہ تھا، اب صورت حال مختلف ہے، ہم نے کوئی چھانٹیاں نہیں کیں، ٹرین بند نہیں کیں۔ اب کوئی ریلوے کی نجکاری کی بات نہیں کرتا۔ ریلوے کا ادارہ اب مستحکم ہورہا ہے لیکن اسے ٹھیک ہونے میں 10 سے 12 سال لگیں گے۔

’’ وزرا اور چیف جسٹسز سمیت سرکاری افسران کے زیر استعمال مہنگی گاڑیوں کا نوٹس ‘‘

دوسری جانب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک بھر کے وفاقی اور صوبائی محکموں سے لگژری گاڑیوں کے استعمال کی رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا بتایا جائے کہ کتنے وفاقی وزرا اور سرکاری افسران اپنی حیثیت سے زیادہ پرتعیش گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کے کابینہ سیکرٹریز اور وفاقی سیکرٹریز کو رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں صحت اور تعلیم کی خراب صورتحال ہے لیکن افسران لگژری گاڑیاں انجوائے کر رہے ہیں۔

’’ میرے ججزکی عزت نہ کرنے والا کسی رعایت کامستحق نہیں ‘‘

ادھر سانحہ ماڈل ٹاؤں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ماورائے قانون کوئی اقدام نہیں کریں گے، میرے ججز کی عزت نہ کرنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق ہائی کورٹ میں زیرالتوا تمام مقدمات کو 2 ہفتوں میں نمٹانے کاحکم جاری کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجازاعوان کی چھٹی بھی منسوخ کردی، اور حکم دیا کہ جج اعجاز اعوان روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کریں۔ عدالت نے جسٹس علی باقر نجفی رپورٹ کو بھی عدالتی ریکارڈ بنانے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ خواجہ سعد رفیق نے گزشتہ برس ایک تقریب کے دوران خطاب میں کہا تھا کہ ہم لوہے کے چنے ہیں جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا اس کے دانت ٹو ٹ جائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔