فائر بریگیڈ کو ضروری آلات و مشینری سے آراستہ کر رہے ہیں ایڈمنسٹری ٹر بلدیہ عظمیٰ

شعبہ فائر فائٹنگ اور ریسکیو اہمیت کے حامل ہیں تاکہ حادثات سے نمٹا جاسکے،ہاشم رضازیدی.


Staff Reporter April 14, 2013
سوک سینٹرکے سیمینار ہال کو ظل احمد نظامی سے منسوب کرنیکا اعلان، سڑک اور پل بھی منسوب کیا جائیگا،زیڈ اے نظامی کیلیے تعزیتی اجلاس فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر ہاشم رضا زیدی نے کہا ہے کہ حادثات اور قدرتی آفات کی صورت میںممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم رکھنے کیلیے فائر فائٹنگ اور ریسکیو کا شعبہ انتہائی توجہ کا متقاضی ہے، دنیا کے تمام بڑے شہروں میں فائر فائٹنگ اور ریسکیو کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔

تاکہ شہری علاقوں میں ہونے والے حادثات اور آگ لگنے کے واقعات سے بھر پور انداز میں نمٹا جاسکے اور شہریوں کو فوری اور تیز تر مدد بہم پہنچائی جاسکے، بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر اپنے فائر بریگیڈ اور ریسکیوعملے کو تمام ضروری آلات و مشینری سے آراستہ کررہی ہے اورفائر فائٹرز سمیت ریسکیو عملے کیلیے جدید خطوط پر تربیت کا انتظام کیا گیا ہے۔

یہ بات انھوں نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سٹی انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ(سم) میں فائر بریگیڈ کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز ڈاکٹر شوکت زمان، ڈائریکٹر سم محمد شاہد، ڈائریکٹر کونسل غفران احمد، ڈائریکٹر سٹی نائب ناظم سکریٹریٹ رضیہ سلطانہ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ فائر بریگیڈ کے عملے کو بہترین ٹیکنیکل ٹریننگ دی جائے، فائر بریگیڈ کے لیے ٹریننگ کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس کا مقصد اس اہم ترین شعبے کیلیے درکار بنیادی معیار کو پورا کرنا ہے، انھوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے فائر بریگیڈکے فائر ٹینڈرز کی مینٹی نینس کے بعد ان کی تعداد 65 ہو گئی ہے جبکہ قبل ازیں فائر بریگیڈ کے 22 فائر ٹینڈرز درست حالت میں تھے جو اتنے بڑے شہر کی ضروریات کیلیے ناکافی تھے، اس کے ساتھ ہی اسنارکل اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کیلیے آلات متعلقہ شعبہ کو فراہم کیے گئے ہیں۔



ان میں حسب ضرورت اضافہ کیا جائے گا تاکہ فائر بریگیڈ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سم محمد شاہد نے کہا کہ فائر فائٹرز اور ریسکیو عملے کاکام مشکل صورتحال میں لوگوں کی جانیں بچانا ہے، اس قسم کی تربیت ان کے کام میں مزید نکھار پیدا کرتی ہے، انھوں نے کہا ورکشاپ کا دورانیہ3 ہفتے تک ہے، پہلے فیز میں محکمہ فائربریگیڈ کے افسران کو سٹی انسٹی ٹیوٹ آف امیج منیجمنٹ(سم) کے تیارکردہ سوفٹ اسکل کی تربیت دی جاچکی ہے جبکہ دوسرے فیز میں فائرفائٹرز اور دیگر عملے کو ہارڈ اسکل کی تربیت دی جائیگی۔

جس میں سول ایوی ایشن ، کے پی ٹی اور دیگر اداروں کے ماہرین تیکنیکی امور سے متعلق آگاہی دیں گے، ورکشاپ سے سید نصرت علی اور دیگر نے بھی خطاب کیا، بعدازاں ایڈمنسٹریٹر کراچی سید ہاشم رضا زیدی نے ورکشاپ کے شرکا میں اسناد تقسیم کیں،دریں اثنا ایڈمنسٹریٹر سید ہاشم رضازیدی نے سوک سینٹر کے سیمینار ہال کو سابق ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے ظل احمد نظامی سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کراچی کی ایک اہم سڑک اور پل بھی شاندار خدمات کے اعتراف میں ظل احمد نظامی سے منسوب کیا جائے گا۔

انھوں نے یہ اعلان کے ڈی اے لیبر یونین کے تحت مرحوم زیڈ اے نظامی کی یاد میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوںنے کہا کہ زیڈ اے نظامی نے عالمی پائے کے ٹائون پلانر تھے جن کی صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا، کے ڈی اے کے افسران و ملازمین کو ان کی پیروی میں اچھا کام کرنا چاہیے، انھوں نے شہر کراچی کو سرسید انجینئرنگ یونیورسٹی کی شکل میں نجی شعبے میں قائم ہونے والی پہلی یونیورسٹی کا تحفہ دیا ۔