تاحیات مراعات کا ازخود نوٹس سپریم کورٹ نے سابق حکمرانوں سے جواب طلب کرلیا

گیلانی، رحمن ملک، قائم علی شاہ کو خود یا بذریعہ وکیل پیش ہونے کی ہدایت،آئین سے بغاوت نے ملک کو کمزور کیا،چیف جسٹس


Numainda Express April 14, 2013
ماضی میںآئین سے بغاوت اور اقتدار پر فوجی قبضے سے ملک عدم استحکام کاشکارہوا،تمام اداروں پرعدالتی احکام کی پابندی لازم ہے،وارکالج کے افسران سے خطاب۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے ماضی میں آئین سے بغاوت اور اقتدار پر فوج کے قبضے نے ملک کوکمزور اور عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔

ہفتے کو پاکستان ایئر فورس وارکالج کراچی میں زیر تربیت افسران سے اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بیرونی جارحیت سے ملک کا دفاع اور سول حکومت کی مدد مسلح افوا ج کی آئینی ذمے داری ہے اور مسلح افواج نے متعدد مواقع پر اپنی ذمے داریوںکو بخوبی نبھایا ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی میں ماورائے آئین اقدامات، منتخب حکومتوں اور اسمبلیوںکی تحلیل اور اقتدار پر قبضوں سے غیر ریاستی عناصر سر گرم ہوگئے جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی اور جمہوری عدم استحکام پیدا ہوا۔

آج ملک کو دہشت گردی، ماورائے عدالت قتل عام، اقربا پروری اور بدعنوانی کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کیلیے ہر ادارے اور فردکو مل کرکام کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاستی ادارے آئین کی تخلیق ہیں اس لیے آئین کا تحفظ ہر ادارے کی ذمے داری ہے۔ جمہوریت کے استحکام کیلیے آئین نے ہر ادارے کا اختیار متعین کردیا ہے اور توازن کا ایک نظام قائم کیا ہے، عدلیہ مطلق العنانیت اور اختیارات کے بے جا استعمال کے آگے دیوار ہے، بین الحکومتی اور مفاد عامہ کے معاملات میں عدلیہ کو خصوصی اختیار حاصل ہے اور ہر انتظامی اقدام پر جائزے کا اختیار رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ہر حکم کی پابندی تمام ریاستی اداروں پر لازم ہے۔