فل بینچ تشکیل دیا جائے چیف جسٹس حصہ نہ ہوں پرویز مشرف بغاوت کیس میں جواب اعتراض کیساتھ واپس

ایک متاثرہ شخص غیر جانبدار نہیں ہو سکتا، سابق صدر کی جانب سے داخل جواب میں موقف


عدالت نے سنے بغیر فیصلہ دیا، دائر درخواستیں خارج کرنے کی استدعا، چیف جسٹس کیخلاف غلط زبان استعمال کی گئی، رجسٹرار کا موقف۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ رجسٹرارآفس نے بغاوت کیس میں سابق صدرجنرل (ر) پرویز مشرف کاتحریری جواب اعتراضات سمیت واپس کردیا۔

سابق صدر کے وکیل احمد رضا قصوری نے ہفتے کو بغاوت کیس میں تحریری جواب جمع کرایا تھاجس میں کیس کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ یہ موقف بھی اپنایا گیا تھاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری خود بینچ کا حصہ نہ ہو۔تحریری جواب متفرق درخواست کی شکل میں جمع کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر کیخلاف بغاوت کے الزام میں کارروائی کرنے کے لیے دائر درخواست کی بنیاد سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے مقدمے کا وہ فیصلہ ہے جس میں سپریم کورٹ کے 14رکنی بینچ نے31جولائی 2009کو 3نومبر 2007کاعبوری آئینی حکم (پی سی او) غیر آئینی قرار دیا تھا۔

سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ یک طرفہ اور حقائق کے برعکس ہے، اس لیے بغاوت کے مقدمے کے لیے فل بینچ تشکیل دیا جائے تاکہ 31جولائی کے فیصلے کا بھی جائزہ لیا جا سکے۔ جواب میں مزید کہا گیا تھاکہ سپریم کورٹ نے سابق صدر کو سنے بغیر فیصلہ دیا جبکہ3 نومبر کا اقدام 31 جولائی کے فیصلے سے پہلے کی سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق تھاکیونکہ اس سے پیشتر عدالت عظمٰی نے اس اقدام کو درست قرار دیا ۔



تحریری جواب میں موقف اپنایا گیا تھا کہ چیف جسٹس خود بینچ کا حصہ نہ ہو کیونکہ3 نومبر کے اقدام سے جسٹس افتخار محمد چوہدری براہ راست متاثر ہوئے، اس لیے ان کی موجودگی میں بینچ پر جانبداری کا سوال اٹھے گا کیونکہ ایک متاثرہ شخص غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔ جواب میں عدالت کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا گیا اوربغاوت کے مقدمے کے بارے میں عدالت کے دائرہ کار کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھائے گئے کہکسی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنا قانون کے مطابق وفاقی حکومت کااختیار ہے، کوئی عدالت وفاقی حکومت کو اس بارے میں ہدایات نہیں دے سکتی۔

جواب میں سابق صدر کے خلاف دائر درخواستیں خارج کرنے کی بھی استدعا کی گئی تھی۔ رجسٹرار آفس نے چیف جسٹس کے بارے میں ریمارکس پراعتراض کرتے ہوئے تحریری جواب واپس کر دیا ، اعتراض میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے نامناسب الفاظ استعمال کیے ہیں۔آن لائن کے مطابق سابق صدر کی درخواست میں کہا گیا کہ سابق صدر کے خلاف دائر درخواستیں غیر ائینی اور غیر قانونی ہیں، مشرف کا براہ راست ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر درخواست گزاروں کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں ۔