بجلی کا بحران12گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے شہری بلبلا اٹھے

لوڈشیڈنگ کےخاتمےکیلیےاقدامات کیےجائیں، شہریوں کا نگراں حکومت سے مطالبہ،ایف سی ایریااورلیاری میں 18 گھنٹے بجلی غائب.


Staff Reporter April 14, 2013
کے ای ایس سی اور سوئی سدرن گیس کمپنی میں واجبات کی ادائیگیوں کا تنازع، صنعتی علاقوں میں 8گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ شروع فوٹو: فائل

کراچی میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا،کے ای ایس سی نے گیس کی کمی کو جواز بنا کر صنعتی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 8 گھنٹے کردیا۔

جبکہ رہائشی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ 12 گھنٹے تک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو سخت گرمی میں شدید اذیت کا سامنا ہے، تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو شہر کے مختلف علاقوں فیڈرل بی ایریا ، سولجربازار، گارڈن، رنچھوڑ لائن، محمودآباد، ملیرکھوکھراپار، گلستان جوہر، شاہ فیصل کالونی، پاک کالونی، منگھوپیر، قصبہ کالونی، اورنگی ٹائون، زمان آباد، کورنگی، لانڈھی، قائدآباد، ڈالمیا، عیسیٰ نگری، لیاری، چاکیواڑہ، سلطان آباد و دیگر علاقوں میں چار سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی گئی۔

جس کی وجہ سے شہریوں کو سخت گرمی میں شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا، لیاری کے علاقوں نیاآباد اور موسی لین میں طویل ترین اٹھارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی گئی جس کی وجہ سے ان علاقوں کے مکین شدید گرمی میں بلبلا کر رہ گئے، ایف سی ایریا میں صبح نو بجے بجلی گئی ، رات گئے تک نہیں آئی، ملیر کے مختلف گوٹھوں میں بھی دس سے بارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی گئی رات کے اوقات میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے خواتین ، بچوں اور ضعیف افراد کا گھروں میں برا حال ہوگیا ، نارتھ کراچی کے مختلف سیکٹرز ، بندھانی کالونی اور خاموش کالونی میں بھی دس سے زائد گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی گئی۔



شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھانے کے بجائے کم کیا جائے اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلیے فوری اقدامات کیے جائیں، دوسری جانب کے ای ایس سی اور سوئی سدرن گیس کمپنی میں واجبات کی ادائیگیوں کا تنازع پیدا ہوگیا ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی کا دعویٰ ہے کے ای ایس سی پر46 ارب روپے کے واجبات ہیں جبکہ کے ای ایس سی کے ترجمان کہتے ہیں سوئی سدرن گیس کمپنی سے 34 ارب روپے کی گیس خریدی اور 35 ارب روپے ادا کردیے اور اب کوئی واجبات نہیں ہیں۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کے ای ایس سی کو 4مہینوں سے روزانہ120 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جا رہی ہے اور کے ای ایس سی فوری طور پر46 ارب روپے کی ادائیگی کرے،دریں اثنا کراچی ٹمبر مرچنٹ گروپ کے جنرل سیکریٹری اور ممتاز تاجر و سماجی رہنما محمد شرجیل گوپلانی نے کہا ہے کہ کے ای ایس سی اور ایس ایس جی سی کے مابین مالیاتی جنگ نے کراچی کے 2 کروڑ عوام کو بجلی کے بحران میں مبتلا کردیا ہے ماہانہ اربوں روپے بل کی مد میں ادا کرنے والے کراچی کے عوام بالخصوص تاجروں اور صنعتکاروں کو 8 سے 12 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مبتلا کرنے والے ان دونوں اداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان ان دونوں اداروں کے مابین معاملات کو فوری طور پر ختم کروائیں اور کراچی کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو تباہی سے بچانے میں کردار ادا کریں ۔