عامر خان ذمے داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں متحدہ بہادر آباد

23اگست2016 کو رابطہ کمیٹی نے ہی عامر خان کو سینئر ڈپٹی کنوینر منتخب کیا تھا، ترجمان


Staff Reporter April 24, 2018
ڈاکٹر فاروق ستار اب تک فیصلے پر خاموش کیوں رہے،نکتی چینی سمجھ سے بالاتر ہے، ترجمان۔ فوٹو: فائل

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بہادر آباد گروپ کے ترجمان نے گزشتہ رات ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس کے مندرجات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 23اگست 2016 کے بعد رابطہ کمیٹی نے ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں ہی عامر خان کو سینئر ڈپٹی کنوینر منتخب کیا تھا اور وہ آج تک اس انتہائی اہم ذمے داری کو بطریق احسن نبھاتے آ رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار بخوبی آگاہ ہیں کہ سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان کی ایم کیو ایم میں واپسی کا پالیسی فیصلہ کس کا تھا اور اس فیصلے سے قبل عامر خان سے ایم کیو ایم کے جس وفد نے ملاقات کی تھی وہ خود اس کا حصہ تھے، اتنے برس بعد اس فیصلے پر نکتہ چینی سمجھ سے بالاتر ہے۔

ترجمان نے کہا کہ رابطہ کمیٹی سمیت تنظیم کے مختلف شعبوں میں حق پرست شہدا کے لواحقین عامر خان کے ہمراہ اس عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ ہم سب نے ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے تنظیم کو آگے لے جانا ہے۔

متحدہ بہادر آباد کے ترجمان نے کہا کہ 23، اگست کا فیصلہ اگر فاروق ستار کا تنہا ہوتا تو پھر 5فروری کو بھی تحریک ان کے ساتھ ہوتی لہٰذا اس حقیقت کو ذہن میں واضح کرلینا چاہئے کہ 23اگست کے فیصلے پر عمل در آمد میں تحریک کی قیادت نے مشترکہ طور پر حصہ لیا تھا۔

ترجمان نے کہاکہ ڈاکٹر فاروق ستار 11مارچ کے رینجرز کے چھاپے کا الزام عامر خان کے سر ڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی کرتے نظر آرہے ہیں اگر ایسا تھا تو فاروق ستار 3سال تک کیوں خاموش رہے؟۔ ترجمان نے کہا کہ پاک سر زمین پارٹی سے کسی بھی قسم کا اتحاد تحریک کے اکثریتی کارکنان کی رائے کی بنیاد پر مسترد کیا گیا تھا اور عامر خان نے اس موقع پر تنظیم کے اہم ذمہ دار کی حیثیت سے اپنے اختلاف کا اظہار کرکے ان کارکنان کی آواز سے آواز ملائی۔