حکومت نے سیف الرحمن کو میونسپل کمشنر کراچی تعینات کر دیا

کے ایم سی میں مشیر مالیت کے لیے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، ذرائع


Staff Reporter April 28, 2018
اصغر عباس کے پاس کئی ماہ سے کے ایم سی کے مشیرمالیت کی اضافی ذمے داری ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت نے نئے میونسپل کمشنر کراچی سیف الرحمن کو تعینات کردیا لیکن اب تک کے ایم سی میں مشیر مالیت کے لیے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

میئرکراچی نے اصغر عباس نامی شخص کو کئی ماہ سے مشیر مالیت کی اضافی ذمے داریاں دی ہوئی ہیں جس طر ح وہ میونسپل کمشنر کی اضافی ذمے داری ادا کررہے تھے،کے ایم سی کے اہم عہدوں میں سے ایک اہم عہدہ مشیر مالیت کا بھی ہے۔

مشیر مالیت کے دستخط سے تر قیاتی کاموں،تنخواہوں سمیت تمام مالی امور چلائے جا تے ہیں لیکن کئی ما ہ سے اصغر عباس نامی شخص مشیر مالیت کے عہدے پر تعینات ہے، سندھ حکومت کی جانب سے مشیر مالیت تعینات کیا جاتا ہے لیکن کئی ماہ سے مشیر مالیت کے امور کا نگراں عارضی بنیادوں پر تعینات ہے،سندھ حکومت نے دو دن قبل سیف الرحمٰن کو میونسپل کمشنر کراچی تعینات کیا ہے۔

سندھ حکومت کے کا غذات کے مطابق محمد نسیم نواز میونسپل کمشنر کراچی تھے اور ان کو عہدے سے ہٹادیا گیا لیکن عملی طور6ماہ سے اصغر عبا س میونسپل کمشنر کراچی کے عہد ے پر براجمان تھے اور حکومتی اور عدالتی معاملا ت میں اصغر عباس ہی پیش ہوتے تھے،اب وہ مشیر مالیت کی اہم ذمے داری کس قانون کے تحت ادا کررہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی ماہ سے اصغر عبا س میونسپل کمشنر اور مشیر مالیت کے اہم عہدوں پر اضافی بنیادوں پر فر ائض انجام دے رہے تھے،اب اس پر بھی سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں کہ مشیر مالیت کی ذمے داری کس کی ایما پر وہ ادا کررہے ہیں،کے ایم سی کے اہم امور ایڈہاک بنیادوں پر چلا ئے جا رہے ہیں، سندھ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی مستقل مشیر مالیت کیوں تعینات نہیں کیا گیا یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اصغر عباس نا می شخص بلد یہ عظمیٰ کر اچی اور سند ھ حکومت کے درمیان مڈل مین کا کردار ادا کرر ہا ہے اسی وجہ سے کئی ماہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے دو اہم عہدے اضافی ذمے داریاں دے کر چلائی جارہی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اصغر عباس ڈائریکٹر فوڈ تعینات ہے لیکن دونوں اہم عہدے اضا فی بنیاد پر دیے گئے ،ذرا ئع کا کہنا ہے کہ اصغر عباس کی بطور میونسپل کمشنر اور مشیر مالیت کے دستخط اور احکام کی کیا قانونی حیثیت ہے، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔