بچت اسکیموں میں منافعے کی شرح میں اضافہ

قومی بچت اسکیمیں حکومتی سطح پر عوامی فلاح کے اصولوں کو مد نظر رکھ جاری کی جاتی ہیں


Editorial May 02, 2018
قومی بچت اسکیمیں حکومتی سطح پر عوامی فلاح کے اصولوں کو مد نظر رکھ جاری کی جاتی ہیں۔فوٹو: فائل

قومی بچت اسکیموں پر منافعے کی شرح میں اضافے کو ایک بہتر اقدام اور مثبت قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ کسی بھی قوم اور ملک کی قومی معیشت میں متوسط طبقہ اہم کردار ادا کرتا ہے، متوسط طبقہ اپنی روزمرہ یا ماہانہ آمدنی سے جو بچت کرتا ہے، اس پر معیشت کی مستحکم دیوارکھڑی ہوتی ہے کیونکہ بچت ہوتی ہے تو سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔

قومی بچت اسکیمیں حکومتی سطح پر عوامی فلاح کے اصولوں کو مد نظر رکھ جاری کی جاتی ہیں ، لیکن مقام افسوس ہے کہ قومی سطح پراس اہم ترین شعبے پر انتہائی کم توجہ دی گئی ، ماضی قریب نہ تو تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور نہ ہی قومی بچت کی اسکیموں میں شرح منافع پر توجہ مرکوز کی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ، کہ ملک میں جمع شدہ سرمائے میں نہ صرف نمایاں کمی واقع ہوئی بلکہ یہ بچت کی رقم جن پروجیکٹس اور سیکٹرز میں انوسٹ کی جاتی ہے ان میں بھی تعطل آیا۔

جدید سرمایہ دارانہ نظام میں ایک صارف معاشرہ تشکیل پاچکا ہے ، جو بے بجا تعیشات زندگی کے پیچھے بھاگ رہا ہے ، اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کے لیے بہت زیادہ قرضہ بینکوں سے لیتا ہے، لیکن اصل چیزکفایت شعاری ہے ۔ بچت کلچر کے فروغ کی ضرورت بہت زیادہ ہے ۔ یہ بات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنیوالی پچاس فیصد سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔

بہبود ، ڈیفنس ، اسپیشل سیونگ ، ریگولر انکم اورسیونگ سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا براہ راست تعلق متوسط طبقے سے ہے ،کیونکہ ان کی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری ہی ملکی معیشت کو استحکام بخشتی ہے ، لیکن اول تو اس ضمن میں شعور وآگہی بیدار کرنے کی مزید ضرورت ہے دوئم اس قوانین اور ریلیف پیکیچز ترتیب دیے جانے چاہئیں جن سے عام افراد کو فائدہ پہنچ سکے ، نیشنل سیونگ سینٹرز کے دفاتر کی خستہ حالی دور کرنے کی ضرورت ہے ۔

سب سے اہم مسئلہ ان سینٹرز میں سینئر سیٹزن کی کثیرتعداد طویل ترین لائنوں میں لگی ہوتی ہے ، ان میں بیوہ ، یتیم اور ریٹائر ملازمین کی اکثریت ہوتی ہے جو معمولی منافع حاصل کرنے کے لیے ہر ماہ دھکے کھاتے ہیں اور عملے کی جھڑکیاں سنتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام اسکیموں کی شرح منافع میں بتدریج اس حد تک اضافہ کرے جس کے ذریعے ان کا باعزت طور پر گزارا ہوسکے۔