قیوم آباد پانی کی بندش کیخلاف احتجاج ہنگامہ آرائی

9روزسےپانی نہ آنےسےمعمولات زندگی متاثرہیں،مظاہرین، لوگوں نےفراہمی آب کی لائن میں غیرقانونی کنکشن لگارکھےہیں،واٹربورڈ۔


Staff Reporter April 18, 2013
پانی کی عدم فراہمی کے خلاف قیوم آباد اور اطراف کی آبادی کے رہائشیوں کی ہنگامہ آرائی کے سبب کورنگی روڈ پر ٹریفک جام ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

دور جدید میں بھی میٹرو پولیٹن شہر کراچی کے شہری پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے ترس رہے ہیں۔

قیوم آباد کے علاقے میں 9 روز سے پانی کی فراہمی بند ہے جس پر گزشتہ روز علاقہ مکین سڑک پر نکل آئے اور احتجاج کیا، واٹر بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ قیوم آباد کی فراہمی آب کی لائن میں غیر قانونی کنکشن لگائے گئے ہیں جنھیں ریگولرائز نہیں کرایا گیا جبکہ منرل واٹر کی فیکٹریاں بھی لگارکھی ہیں،تفصیلات کے مطابق قیوم آباد میں گزشتہ 9 روز سے پانی کی فراہمی بند ہے ، علاقہ مکینوں نے اس دوران متعلقہ حکام کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا ، تحریری درخواستیں دیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوسکی۔

پانی کی مسلسل عدم فراہمی کے باعث مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا اور ان کی زندگی اجیرن ہوگئی ، گھروں میں خصوصاً بچوں اور خواتین کو کئی دشواریوں سے گزرنا پڑا ، علاقہ مکین دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہوگئے جبکہ ٹینکر مافیا نے بھی صورتحال کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے نرخ بڑھادیے جس کے باعث علاقہ مکین مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہوگئے ، اس تمام صورتحال سے تنگ آکر گزشتہ روز قیوم آباد کے علاقہ مکین سڑکوں پر نکل آئے اور قیوم آباد چورنگی پر احتجاج کیا۔

 



مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں پانی کی فراہمی 9 روز سے بند ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے،مظاہرے کے دوران انھوں نے واٹر بورڈ کے خلاف شدید نعرے بازی کی ، احتجاج کے دوران نامعلوم افراد نے گاڑیوں پر پتھرائو کیا اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردیں جس سے بدترین ٹریفک جام ہوگیا ،ٹریفک جام میں سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ کورنگی صنعتی ایریا کی جانب جانے والے کنٹینر اور دیگر مال بردار گاڑیاں بھی فیکٹریوں سے خام مال لے کر نہ نکل سکے،ٹریفک جام کی وجہ سے بلوچ کالونی ایکسپریس وے ، کورنگی روڈ ، کورنگی صنعتی ایریا اورکورنگی کراسنگ کی جانب جانے والے راستے بند ہوگئے۔

گاڑیوں میں بیٹھے مسافروں اور خصوصاً خواتین کی حالت شدید گرمی اور حبس کے باعث غیر ہوگئی جبکہ ایمبولینسیں بھی ٹریفک جام میں پھنسی رہیں جن میں موجود مریض طبی امداد کے لیے تڑپتے رہے،احتجاج 3 گھنٹے سے زائد جاری رہا جس سے شہریوںکو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو طویل مذاکرات کے بعد پر امن طور پر منتشر کردیا۔



قیوم آباد:پانی کی بندش کیخلاف مظاہرین نے سڑک کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا ہوا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

علاوہ ازیں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اعلامیے کے مطابق قیوم آباد میں واٹر بورڈ کی 33 انچ قطر کی فراہمی آب کی لائن سے 6 سے 8 انچ کے غیر قانونی کنکشن لگارکھے ہیں اور مزید ان پر 11 بوسٹر بھی نصب کیے گئے ہیں جس سے اختر کالونی کا پانی بھی کھینچ لیا جاتا ہے اور کچی آبادیوں کے مکینوں نے واٹر بورڈ کی لائنوں سے غیر قانونی کنکشن حاصل کر رکھے ہیں جنھیں ریگولرائز نہیں کرایا جارہا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ان علاقوں میں لوگوں نے جعلی منرل واٹر کی فیکٹریاں لگا رکھی ہیں جن میں غیر قانونی طریقے سے پانی لایا جاتا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ غیر قانونی طور پر لگائے گئے بوسٹرز ختم کرائے تاکہ ان علاقوں کا پانی منرل واٹر کی مصنوعی فیکٹریوں میں فراہم نہ کیا جاسکے ، علاوہ ازیں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز نے چیف انجینئر اور سپرنٹنڈنٹ انجینئر اور اسٹاف کو ہدایت کی ہے کہ وہ قیوم آباد میں پانی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور پانی کی سپلائی بحال رکھیں ۔