شاہ زیب قتل کیس میں سابق تفتیشی افسر کا بیان قلمبند

وکلا ئے صفائی نے بیان پر جرح کرنے کیلیے مہلت مانگ لی ، سماعت آج تک ملتوی


Staff Reporter April 18, 2013
گواہ نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا 25دسمبر2012 کو انچارج تھانہ درخشاں محمد اسلم جھگرانی نے انھیں فون کرکے بتایا کہ علاقے میں قتل کی واردات ہوگئی ہے. فوٹو: فائل

شاہ زیب قتل کیس میں سابق تفتیشی افسرکا بیان قلمبند کرلیا ہے تاہم وکلا صفائی نے بیان پر جرح کرنے کیلیے مہلت مانگ لی۔

فاضل عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کردی ہے ، تفصیلات کے مطابق بدھ کوجیل حکام نے مقدمے میں ملوث شاہ رخ جتوئی ، سراج تالپور ، سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو پیشی کیلیے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج غلام مصطفی میمن کے روبرو پیش کیا تھا ، اس موقع پر پبلک پراسیکیوٹر عبدالمعروف نے مقدمے کے سابق تفتیشی افسر سب انسپکٹر نفیس احمد کو گواہی کیلیے پیش کیا۔

گواہ نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا 25دسمبر2012 کو انچارج تھانہ درخشاں محمد اسلم جھگرانی نے انھیں فون کرکے بتایا کہ علاقے میں قتل کی واردات ہوگئی ہے اور انھیں فوری تھانے میں طلب کیا اور مقدمے کی تفتیش اس کے حوالے کی ، 2جنوری کو اسے ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ اسے مقدمے کی تفتیش سے الگ کردیا گیاہے اور تفتیش سب انسپکٹر مبین کو منتقل کردی گئی ہے جس پر اس نے کی گئی تمام تفتیش اور شواہد موجودہ تفتیشی افسر کے حوالے کردیے تھے، گواہ کے بیان قلمبند کرنے کے بعد وکیل صفائی نے جرح نہیں کی اور عدالت میں جمع کرائے گئے میمو کی نقول دینے اور جرح کرنے کی مہلت دینے کی استدعا کی تھی ، فاضل عدالت نے آج تک سماعت ملتوی کردی۔



قبل ازیں فاضل عدالت نے وکیل صفائی کی جانب سے ایف ایس ایل ایکسپرٹ کو عدالت میں طلب کرنے سے متعلق دائر درخواست مسترد کردی اور اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کی قانون کے مطابق ایکسپرٹ کو عدالت میں پیش ہونے سے استشنیٰ قرار دیا گیا ہے اور ضابطہ 510کے تحت تفتیشی افسر کو رپورٹ جمع کرانے کا اختیار ہے ، دوسری جانب جعلسازی اور دھوکا دہی سے بیرون ملک فرار کرنے میں ملزم شاہ رخ کی مدد اور اعانت جرم میں ملوث سہیل اور محمد طحہ حسین کے مقدمے کی سماعت ملزم شاہ رخ کے عدم حاضری کے باعث بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی، سیشن جج ملیر نے مقدمے میں ملوث دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 8 روز کی توسیع کردی ہے ۔