سیاست دان برداشت کا کلچر اپنائیں

جمہوریت میں اختلاف رائے ہوتا ہے، آپ کی سیاسی سوچ الگ ہوسکتی ہے، لیکن اختلاف اور دشمنی میں واضح فرق ہے


Editorial May 09, 2018
جمہوریت میں اختلاف رائے ہوتا ہے، آپ کی سیاسی سوچ الگ ہوسکتی ہے، لیکن اختلاف اور دشمنی میں واضح فرق ہے۔فوٹو: فائل

موجودہ منتخب حکومت کے پانچ سال پورے ہونے میں ابھی دو عشرے باقی ہے، اس کے بعد نگراں سیٹ اپ آئے گا جو نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا ، لیکن ملک میں انتخابی سرگرمیوں قبل از وقت شروع ہوچکی ہے، وطن عزیز میں تواتر سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں اورکارنر میٹنگزکا سلسلہ جاری ہے ۔ ایک طرف ملک میں شدید گرمی کی لہر آئی ہوئی ہے تو دوسری طرف سیاسی پارہ بھی کافی بلند ہوچکا ہے ، عوام کی سیاسی عمل میں بھرپور دلچسپی اور شرکت ان کی جمہوریت پر یقین کو ظاہر کرتی ہے ، وہیں سنگین الزامات کی روش نے ایک تناؤکی کیفیت بھی پیدا کر دی ہے ۔

ایک خراب روش چل پڑی ہے کہ کسی بھی پارٹی کے مرکزی رہنما دوسری پارٹی پر انتہائی درشت لہجے میں تنقید کرتے ہیں اور یہ سب کچھ ایک عام کارکن کی نفسیات پر اثر انداز ہوتا ہے اور وہ لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتا ہے ۔ کراچی میں گزشتہ رات گلشن اقبال کے ایک مقامی گراؤنڈ میں پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جلسہ کرنے پر جاری سیاسی کشیدگی تصادم میں تبدیلی ہوگئی ۔ دونوں جماعتوں کے کارکن باہم دست وگریبان ہوگئے، مشتعل کارکنوں نہ صرف ایک دوسر ے پر پتھراؤ بلکہ استقبالیہ کیمپ بھی اکھاڑ کر نذر آتش کر دیے۔

2 منی ٹرکوں سمیت 3گاڑیوں اور متعدد موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی گئی ، ہنگامہ آرائی کی وجہ سے معروف شاہراہ یونیورسٹی روڈ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگی ، رات دیر سے کھلنے والے ہوٹل و دیگر کاروبار بند ہوگیا ،جب کہ پولیس اور رینجرزکی بھاری نفری موقعے پر پہنچ کر حالات پر قابو پایا، لیکن اس کے بعد میڈیا کے مختلف چینلز پردونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے یعنی جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا گیا ، پھر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف مقدمات درج کرانے تھانے بھی پہنچ گئے۔اس افسوس ناک واقعے کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس تصادم کی ذمے داری دونوں جماعتوں پر برابر عائد ہوتی ہے ، کیونکہ کسی بھی جانب سے تحمل اور برداشت کا عملی مظاہرہ نہیں کیا گیا ۔

کراچی میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی طویل جدوجہد اور وفاقی وصوبائی حکومتوں کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت امن وامان کا مسئلے پر قابو پایا گیا ہے ۔ شہر کراچی کی رونقیں بحالی ہوئی ہیں ۔ لوگ رات گئے تک بلاخوف وخطر اپنے معمولات زندگی میں مصروف رہتے ہیں۔ ہوٹلز،کاروباری مراکزکھلے ہیں۔کراچی میں تو رات پر بھی دن کا گمان ہوتا ہے ۔ ایسے میں سیاسی سطح پر تصادم کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے،اس کے انتہائی منفی اثرات شہر پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایک انتہائی خطرناک ٹرینڈہے ، کیونکہ عدم برداشت کا نیا کلچرکسی بھی بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے ۔ جمہوریت ، جمہور کے لیے ہوتی ہے ، اظہار رائے کی آزادی کا غلط استعمال یا سیاسی قوت کے بل بوتے پر دوسرے کو نیچے دکھانے کی خواہش انتہائی مہلک ہے ۔

جمہوریت میں اختلاف رائے ہوتا ہے، آپ کی سیاسی سوچ الگ ہوسکتی ہے، لیکن اختلاف اور دشمنی میں واضح فرق ہے ۔جمہوریت میں مخالف کی رائے کا احترام کرنا ،کسی بھی عمل پر برداشت وتحمل کا مظاہرہ کرنا ہی ایک سیاسی کارکن کی پہچان ہوتی ہے۔ سیاسی قیادت تدبر اور فہم وفراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے گلے ملے، تاکہ کارکنوں کے درمیان کشیدگی میں کمی ہو، ایک ضابطہ اخلاق طے کرے۔ جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہیے، پرامن انتخابی عمل کے ذریعے۔ رواداری کے ساتھ۔