انٹر نیشنل کرکٹ کی واپسی بنگلہ دیش نے پاکستانی کیس مزید کمزور کر دیا

جب ٹائیگرز نہیں آ رہے تو ہم کیسے ٹیم بھیج دیں؟ کئی بورڈز حکام نے دبئی میں کہا، 2018 کے آئی سی سی ایونٹ کی۔۔۔، ذکا اشرف


Sports Reporter April 19, 2013
سلمان وآصف کو سزا پوری کرنے کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جائیگی، ندیم غوری غلطی کا احساس کرتے ہوئے آئندہ ایسے کاموں سے دور رہیں۔ فوٹو: آئی این پی/فائل

دورے سے دو بار بنگلہ دیشی انکار نے انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کیلیے کوشاں پاکستان کا کیس مزید کمزور کر دیا، چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف کے مطابق کئی دیگر بورڈز حکام نے دبئی میں مجھ سے کہا کہ جب بنگال ٹائیگرز نہیں آ رہے تو ہم کیسے ٹیم بھیج سکتے ہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ ہم عالمی اعتماد کی بحالی کیلیے ویمنز اور انڈر19ٹیموں کی آمد کا انتظار کریں گے،2018 کے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کیلیے بڈ جمع کرا دی،ذکا اشرف کے مطابق سلمان بٹ اور محمد آصف کو سزا پوری کرنے کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جائے گی، امپائرز ندیم غوری اور انیس صدیقی کو اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے کاموں سے دور رہنا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق ماضی کی ہر آئی سی سی میٹنگ کی طرح اس بار بھی چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف اس امید کے ساتھ مختلف کرکٹ بورڈز کے سربراہان سے ملے کہ غیر ملکی ٹیموں کو کسی نہ کسی طور پاکستان آنے پر راضی کرلیں گے لیکن کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہوسکی،ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس کے بعد لاہور آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے میری تین، چار کرکٹ بورڈ کے صدور سے ملاقات ہوئی مگر وہ پاکستان کا نام سنتے ہی سیکیورٹی خدشات کے سبب ہچکچاہٹ کا شکار نظر آنے لگے۔

خاص طور پر بنگلہ دیش کے گذشتہ سال رویہ نے ان کے لیے منفی مثال چھوڑی، مختلف بورڈز کا کہنا تھا کہ جب ٹائیگرز نہیں آرہے تو ہم دورہ کیوں کریں؟ چیئرمین نے بتایا کہ آئی سی سی کے ایک رکن ملک سے انٹرنیشنل سیریز کیلیے ویمن یا انڈر 19 ٹیم بھجوانے کی بات کی، اس نے تجاویز تیار کرکے ارسال کرنے کیلیے کہا ہے، اس طرح کے اقدامات بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چیئرمین پی سی بی کے مطابق 2018 میں آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی حاصل کرنے کیلیے بھی درخواست دیدی ہے۔



ہمارا موقف تھا کہ اگر مقابلوں کے انعقاد کیلیے پیشکش قبول کرلی جائے تو وقت آنے پر سیکیورٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث سلمان بٹ اور محمد آصف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت سے اپیلیں مسترد ہونے کے بعد کرکٹرز کو سزا پوری کرنا ہوگی، بعد ازاں انھیں ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیلنے کا موقع دے کر اس وقت کی پرفارمنس دیکھیں گے،انھوں نے کہا کہ دنیاایک گلوبل ولیج بن چکی، اینٹی کرپشن معلومات کا تبادلہ ہر جگہ ممکن ہے۔

کسی بھی کھلاڑی کیلیے میچ فکسنگ کرنا مشکل ہوگا، اگر کوئی مستقبل میں بھی ایسا کرتا ہے تو اس کا کیریئر تباہ کردیا جائے گا۔ امپائرز ندیم غوری اور انیس صدیقی کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ میں انصاف اور سچائی پر یقین رکھتا ہوں،کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں ہوا، ندیم غوری کو تنقید کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے کاموں سے دور رہنا چاہیے۔