ایران جوہری معاہدہ ٹرمپ تنقید کی زد میں

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔


Editorial May 12, 2018
روس اور ترکی نے ایران کا ساتھ دینے کا عندیہ دیا ہے۔ فوٹو:فائل

اس وقت عالمی سطح پر موضوع سخن ''ایرانی عالمی جوہری معاہدے'' سے امریکا کی علیحدگی ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل تنقیدکی زد میں رہتے ہیں ۔ یورپی یونین اور دیگر ممالک کی موجودگی اورگواہی میں یہ معاہدہ طے پایا تھا ۔ معاہدہ توڑنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا رویہ مزید جارحانہ کرلیا ہے اور وہ کھلے عام ایرانی حکومت کو ''سنگین نتائج''کی دھمکیاں رہے ہیں ۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کو پرزور مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام شروع نہ کرے ، جب کہ امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں آیندہ ہفتے عائدکی جائیں گی۔ جو سوالات اس وقت اٹھ رہے ہیں وہ انتہائی اہم ہیں اول ،کیا امریکا ، ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو ختم کرنے کے لیے '' جنگ '' شروع کرنا چاہتا ہے؟ دوم ، اس کا نتیجہ تیسری عالمی جنگ کی صورت میں نکلے گا یا پھر مسلم ممالک باہم دست وگریباں رہ کر دوبارہ دورغلامی میں چلے جائیں گے ۔

دلچسپ امر ہے کہ اس معاہدے کے توڑے جانے پر سعودی عرب اور اسرائیل نے اظہارمسرت کیا ہے ۔ اسرائیل کی اسلامی ممالک سے دشمنی تو سمجھ میں آتی ہے،کیونکہ اسرائیل کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، لیکن سعودی عرب کو احتیاط کرنا چاہیے۔ سعودی عرب کے ولی عہد یہاں تک کہہ چکے کہ ایران کے خلاف جنگ چھڑ سکتی ہے ۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جارحانہ رویہ ہمیں بش جونیئر اور بش سینئرکی یاد دلاتا ہے ، جب کہ انھوں نے عراق پرکیمیائی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا جھوٹا الزام لگا کر چڑھائی کردی تھی اور عراق کو تباہ و بربادکردیا تھا ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ، جب کہ یورپی یونین کمیشن کے صدر جین کلاڈج نکر نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے یورپ سپرپاورکی حیثیت سے امریکا کی جگہ لے، امریکا اتحادیوں کے تحفظات کو اہمیت نہیں دیتا، وہ عالمی تجارت کا ٹھیکیدار نہ بنے۔

دوسری طرف فرانس کے بعد برطانیہ نے بھی ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدے سے علیحدہ نہ ہونے کا اعلان کردیا ہے جب کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ انھیں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر بھروسہ نہیں ، ایرانی حکومت معاہدے جاری رکھنے سے پہلے ضمانت لے، امریکا معاہدے سے دستبرداری اختیارکرکے فاش غلطی کا مرتکب ہوا ہے ۔

زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس وقت خطے پر ایک نئی جنگ کے خطرات بری طرح منڈلا رہے ہیں ۔اس فیصلے کے منفی اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے، کیونکہ امریکا پہلے ہی پاکستان اور چین سے اپنے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرچکا ہے جب کہ وہ بھارت کو اس خطے کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے ۔

روس اور ترکی نے ایران کا ساتھ دینے کا عندیہ دیا ہے ، روسی صدر پوتن نے ، امریکا کے ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدے سے علیحدگی کے اعلان سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غورکے لیے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی ہے ، جب کہ ترک صدر نے کہا کہ جوہری معاہدے سے نکلنے کا امریکی فیصلہ غلط ثابت ہوگا ۔اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو امریکا کو اس معاہدے کی پاسداری کرنے پر مجبورکرنا چاہیے تاکہ ایرانیوں کو جینے کا بنیادی انسانی حق ملے اور ان پر بلا جواز پابندیاں عائد نہ کی جائیں ۔