اسٹیل مل کے 6ہزار ملازمین کو بحال کیا وفاقی وزیرپیداوار

عارضی ملازمین کو بھی مستقل کرنے پر غور کررہے ہیں، چوہدری انور، تقریب سے خطاب


Staff Reporter August 11, 2012
عارضی ملازمین کو بھی مستقل کرنے پر غور کررہے ہیں، چوہدری انور، تقریب سے خطاب (فوٹو فائل)

وفاقی وزیر پیداوار چوہدری انور علی چیمہ نے کہا ہے کہ اسٹیل مل کو خسارے سے نکالنے کے لیے غور وخوض کے بعد بیل آئوٹ پیکیج تیارکیا،6 ہزار برطرف ملازمین کو بحال کیا اور مزید عارضی ملازمین کو بھی مستقل کرنے پر غور کررہے ہیں جبکہ اسٹیل مل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میجر جنرل (ر) جاوید نے کہا کہ اسٹیل مل 73 ارب کے بوجھ تلے دبا ہے، یہ ادارہ زندہ رہنا چاہتا ہے، اگر بزنس پلان کی رقم بروقت میسر آجائے تو ادارہ مزید خسارے سے بچ جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو وزیراعظم پاکستان راجا پرویز اشرف کے اسٹیل مل کے دورے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر چوہدری انور علی چیمہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیل مل کے ٹیچرز، ڈاکٹرز اور حدید ٹرسٹ کے ملازمین کو مستقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر میجر جنرل (ر) محمد جاوید نے کہا کہ اسٹیل مل کی پیداواری صلاحیت 11 لاکھ ٹن ہے لیکن بدقسمتی سے خام مال نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت پیداوار 2 لاکھ ٹن سالانہ رہ گئی ہے، حکومت نے 14 ارب 80 کروڑ روپے کے بزنس پلان کی منظوری دی ہے جو قابل تحسین ہے، یہ رقم خام مال کی خریداری کے لیے مختص کی گئی ہے۔

تقریب سے اسٹیل مل پیپلز ورکرز (سی بی اے) یونین کے صدر شمشاد قریشی نے بھی خطاب کیا اور ورکرز کے مطالبات پیش کیے، شمشاد قریشی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی محنت کشوں سے کیا ہوا وعدہ کبھی نہیں بھولتی،2 ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں ہوئیں،ملازمین نے صبر سے کام لیا،انھوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اسٹیل مل کو نجکاری کی فہرست سے خارج کیا جائے۔