وادی نیلم میں پل ٹوٹنے سے طلبا کے ڈوبنے کا سانحہ

آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں خستہ حال پل کی موجودگی کی ذمے دار وہاں کی حکومت ہے۔


Editorial May 15, 2018
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں خستہ حال پل کی موجودگی کی ذمے دار وہاں کی حکومت ہے۔ فوٹو : فائل

لاہور: وادی نیلم میں اتوار کو خستہ حال کنڈل شاہی پل ٹوٹنے کے افسوسناک واقعہ میں پنجاب سے سیر کے لیے آئے ہوئے 25سے زائد طلباء و طالبات پہاڑی نالے میں بہہ گئے' ان میں سے رات گئے تک 5کی لاشیں نکال لی گئیں جب کہ 13افراد کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا' دیگر کی تلاش کے لیے پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے افراد کی مغفرت کے لیے دعا کی اور ریسکیو کارروائیوں کے سلسلے میں تمام ممکنہ معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔

اطلاعات کے مطابق سیر و سیاحت کی غرض سے آئے ہوئے فیصل آباد اور لاہور سے طلباء و طالبات کی 72کے قریب تعداد انتہائی کمزور اور ناقص میٹریل سے بنے پل پر کھڑے سیلفیاں بنا رہی تھی کہ اچانک پل ٹوٹ گیا۔ ان دنوں ملک کے شمال مغربی علاقوں اور آزادکشمیر میں پہاڑی علاقوں میں سیر و سیاحت کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد ملک کے دوسرے شہروں سے آتی ہے اور ایسے ہی مواقع پر کھائیوں میں گاڑیاں گرنے' تودے ٹوٹنے کے علاوہ مختلف قسم کے افسوسناک حادثات بھی پیش آتے ہیں۔

آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں خستہ حال پل کی موجودگی کی ذمے دار وہاں کی حکومت ہے، اسے چاہیے تھا کہ وہ اس کی جگہ نیا اور مضبوط پل تعمیر کرتی تاکہ کسی قسم کے حادثے سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں پر بھی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ ایسی جگہوں پر ضرورت سے زیادہ بڑی تعداد میں جمع نہ ہوں جس سے حادثے کا امکان پیدا ہو۔ کشتیوں کے رونما ہونے والے حادثات کا محرک بھی ضرورت سے زیادہ افراد کا اس میں سوار ہونا سامنے آیا ہے۔

اسی طرح پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کے ساتھ ساتھ حفاظتی جنگلے یا دیوار نہ ہونے اور ڈرائیورز کی لاپروائی اور تیز رفتاری کے سبب گاڑیوں کے گرنے کے حادثات پیش آتے ہیں۔ سیر و سیاحت کے لیے جانے والے طلبا و طالبات کی تربیت بھی کی جانی چاہیے، انھیں بتایا جانا چاہیے کہ پہاڑی علاقوں میں پل وغیرہ کیسے کراس کرنے ہے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔

حیرت انگیز امر ہے کہ طلبا کو لے جانے والے اساتذہ بھی تربیت سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے حکومت اور انتظامی ادارے وقتی طور پر امدادی کارروائیاں کر کے اپنے فرائض سے بری ہو جاتے ہیں اور آیندہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں کی جاتی' یہ رویہ انتظامی اداروں کی بے حسی اور غفلت کی عکاسی کرتا ہے۔