توانائی کا بحران اور کرنے کا کام

بجلی کی کمی پر قابو پانے کے تمام وسائل یہاں موجود ہیں۔


Editorial April 22, 2013
فوری طور پر بجلی کی کمی پر قابو پانے کا ایک ہی حل ہے کہ سرکاری ادارے اپنے ذمے واجب الادا رقم ادا کریں تاکہ حکومت آئی پی پیز کی ادائیگیاں کر سکے۔ فوٹو: فائل

اس وقت پاکستان توانائی کے شدید بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔ اس بحران نے صنعتی' تجارتی اور زرعی شعبے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی گھریلو زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی طلب میں بڑھتے ہوئے اضافے سے نمٹنا مستقبل میں ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئے گا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں توانائی کے بحران کی بڑی وجہ سرکاری محکموں کی طرف سے ادا شدہ بلوں کی ادائیگی کا نہ ہونا بھی ہے۔ وفاقی سطح پر سرکاری محکموں کے ذمے ایک سو دس ارب روپے واجب الادا ہیں جن کی ادائیگی گزشتہ تین سال سے ہونا باقی ہے، صرف فاٹا کے ذمہ 70 ارب روپے واجب الادا ہیں۔توانائی کے بحران کی دوسری بڑی وجہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز( انڈیپینڈنٹ پاور پراجیکٹس) کو بروقت ادائیگی نہ کرنا بھی بتائی جارہی ہے۔ سرکاری اداروں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے واجبات بروقت ادا کریں۔

حکومت معاشی دبائو میں ہو گی تو وہ کیسے آئی پی پیز کو رقم ادا کر سکتی ہے اس لیے نادہندہ سرکاری اداروں پر بھی لازم آتا ہے کہ وہ ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے اپنے بل فوری طور پر ادا کریں تاکہ حکومت بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے آئی پی پیز کو ان کی رقوم ادا کرنے کے قابل ہو سکے۔ اس کے علاوہ بجلی چوری کا مسئلہ بھی پوری شدت سے موجود ہے۔ ملک کے بہت سے علاقوں میں بجلی کی تاروں پر براہ راست کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے۔

یہ امر نہیں بھولنا چاہیے کہ جب عوامی سطح پر غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بجلی چوری کے عمل سے حکومتی اداروں کو نقصان پہنچایا جائے گا تو اس بحران میں حکومت کے ساتھ ساتھ بجلی چور بھی برابر کے شریک ہیں۔ ادھر خیبر پختونخوا ، فاٹا اور بلوچستان سے ریونیو انتہائی کم ہے اور کئی علاقوں سے بجلی کا بل وصول ہی نہیں ہوتا۔گرمیوں میں بجلی کی طلب میں خاطر خواہ اضافے کے باعث اس کے شارٹ فال میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ قابل غور امر یہ ہے کہ بجلی کے پیداواری منصوبوں کی تکمیل میں زرکثیر اور ایک طویل مدت درکار ہوتی ہے۔

فوری طور پر بجلی کی کمی پر قابو پانے کا ایک ہی حل ہے کہ سرکاری ادارے اپنے ذمے واجب الادا رقم ادا کریں تاکہ حکومت آئی پی پیز کی ادائیگیاں کر سکے اور ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اس کا پیداواری عمل شروع ہو ۔اس کے علاوہ ان علاقوں سے بل وصولی یقینی بنائی جائے جہاں سے ریونیو نہیں آتا۔ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ عوام لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے اس قدر مشتعل ہو جاتے ہیں کہ وہ توڑ پھوڑ پر اترآتے اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے۔

انھیں یہ امر ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ ان کے اس فعل سے بجلی کی فراہمی بہتر تو نہ ہو گی بلکہ اس سے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ عوام احتجاج ضرور کریں مگر اس کے لیے وہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس سے احتجاج تشدد کا روپ اختیار کرتے ہوئے اپنے پیچھے تباہی کے نشانات چھوڑ جائے۔ پاکستان کو قدرت نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے' بجلی کی کمی پر قابو پانے کے تمام وسائل یہاں موجود ہیں ضرورت ان کے استعمال کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی ہے۔

اخباری خبر کے مطابق ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے دعویٰ کیا ہے کہ تھر میں پائے جانے والے کوئلے سے 500 سال تک 50 ہزار میگاواٹ سالانہ سے زائد بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور اس بجلی کی پیداواری لاگت تیل سے پیدا کی جانے والی بجلی سے کم ہو گی۔ پاکستان میں پانی' شمسی توانائی اور دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت بہتر منصوبہ بندی کی ہے۔