فکسنگ اسکینڈل کے اہم کردار سلیم پرویز پراسرارطور پرحادثےمیں جاں بحق

لاہور میں بائیک کو ایک بڑی گاڑی نے ٹکر ماری، زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔


Sports Reporter April 25, 2013
لاہور میں بائیک کو ایک بڑی گاڑی نے ٹکر ماری، زخموں سے جانبر نہ ہوسکے. فوٹو: اے ایف پی

مشہور زمانہ پاکستانی میچ فکسنگ اسکینڈل کے اہم کردار سابق اوپنر سلیم پرویز پراسرار طور پر حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔

لاہور میں ان کی بائیک کو ایک بڑی گاڑی نے ٹکر ماری، وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ 65 سالہ پرویز کے ایک دوست نے غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ سابق کرکٹر اتوار کے روز موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ ایک بڑی گاڑی نے ٹکر مار دی جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور بدھ کی صبح خالق حقیقی سے جا ملے۔ سلیم پرویز پاکستان کی میچ فکسنگ انکوائری کے اہم کردار تھے۔

اس سلسلے میں جج ملک محمد قیوم کی سربراہی میں قائم کمیشن کے سامنے انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ چند پاکستانی پلیئرز اور بکیز کے درمیان مڈل مین کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ملک قیوم کا کہنا ہے کہ سلیم پرویز نے اس بات کا بھی اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے سلیم ملک اور مشتاق احمد دونوں کو شارجہ میں ایک فائنل ہارنے کیلیے ایک لاکھ ڈالر دیے۔



یہ انکوائری پاکستان کی جانب سے 1998 میں اس وقت شروع کی گئی جب آسٹریلوی پلیئرز شین وارن، ٹم مے اور مارک وا نے الزام عائد کیا کہ سلیم ملک نے انھیں خراب پرفارم کرنے کیلیے رشوت کی پیشکش کی۔ قیوم انکوائری کمیشن نے 2000 میں سلیم ملک اور عطاء الرحمان پر تاحیات پابندی عائد کردی جبکہ مشتاق، وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق اور سعید انور پر جرمانہ کیا گیا۔

سلیم پرویز ڈومیسٹک کرکٹ کے ایک اچھے اوپنر تھے، انھوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 1980 میں کراچی میں ایک ون ڈے انٹرنیشنل بھی کھیلا مگر اس کے بعد ان کا کیریئر قتل کے الزامات کی نظر ہوگیا مگر کبھی یہ جرم ثابت نہیں ہوسکا تھا۔