جان کیری کی سرگرمیاں

اب امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد اس خطے میں سیاسی تبدیلی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔


Editorial April 25, 2013
امریکا کو یہاں ایسی حکومت قطعاً قابل قبول نہیں جو امریکی مفادات کے برعکس چلے خاص طور پر انتہا پسند مسلح گروپ جو مستقبل میں امریکا کے لیے درد سر بن سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

اس وقت افغانستان تاریخ کے ایک نئے مگر مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ امریکا یہاں سے 2014ء میں اپنی افواج کے انخلا کا اعلان کر چکا ہے۔ اب امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد اس خطے میں سیاسی تبدیلی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔

افغانستان میں امریکا اپنی تمام تر قوت اور وسائل بروئے کار لاتے ہوئے طالبان کو شکست دے کر انھیں کابل حکومت سے بے دخل تو کر چکا ہے مگر وہ انھیں مکمل طور پرکچل بھی نہیں سکا۔افغانستان میں گو حالات ماضی کے مقابلے میں خاصے تبدیل ہوئے ہیں اور وہاں انتخابات کے نتیجے میں حکومت بھی قائم ہے تاہم طالبان ایک خطرے کی صورت میں اب بھی موجود ہیں اور وہ امریکی' نیٹو اور افغان فورسز پر گاہے بگاہے حملے کرکے اپنے وجود اور اس کی اہمیت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کہیں نہ کہیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی ہو رہا ہے۔

اس کے باوجود اگر امریکی فوجیں افغانستان سے انخلا کرتی ہیں تو کرزئی حکومت کو سب سے زیادہ خطرہ طالبان سے ہو سکتا ہے کیونکہ طالبان فوجی انخلا کے بعد کابل حکومت کو اپنے زیر تصرف لانے کے لیے زیادہ شدت سے کارروائی کر سکتے ہیں۔اس صورت حال سے پاکستان بھی الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ پاکستان افغانستان میں ایسی حکومت چاہتا ہے جو اس سے دوستانہ تعلقات رکھے اور مستقبل میں اس کے مفادات کو کسی صورت گزند نہ پہنچائے اور اس کی شمال مغربی سرحد پر امن رہے۔ امریکا کے اس خطے میں اپنے مفادات ہیں وہ یہاں ایسی حکومت کا خواہاں ہے جو امریکی پالیسیوں کے تسلسل کو جاری رکھے اور اس کے مفادات کا ہر ممکن تحفظ کر سکے۔

امریکا کو یہاں ایسی حکومت قطعاً قابل قبول نہیں جو امریکی مفادات کے برعکس چلے خاص طور پر انتہا پسند مسلح گروپ جو مستقبل میں امریکا کے لیے درد سر بن سکتے ہیں۔ اس طرح افغان مسئلے کے اس وقت تین بڑے فریق افغانستان' پاکستان اور امریکا اس کا ایسا حل چاہتے ہیں جو اس خطے کے لیے مفید اور تینوں کے لیے قابل قبول ہو۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے بدھ کو برسلز میں پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی' افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مابین ملاقات ہوئی جس میں افغان امن عمل' نیٹو فورسز کے انخلا' سہ فریقی مذاکرات اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ملاقات کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنا تھا۔

امریکا نے اپنی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کے سیکیورٹی معاملات کو حل کرنے کے لیے افغان نیشنل آرمی قائم کی مگر بدقسمتی سے یہ آرمی پاکستان کے لیے سرحدی کشیدگی اور تناؤ کا باعث بن رہی ہے۔ افغان آرمی کی جانب سے کئی بار بلاجواز پاکستانی علاقوں پر فائرنگ کی گئی جس سے پاکستان کے لیے افغان ملحقہ سرحد پر سیکیورٹی کا نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔افغان نیشنل آرمی میں شامل افسروں اور جوانوں کے نظریات میں پاکستان مخالف جذبات شامل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاک افغان سرحد پر ناخوشگوار واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ادھر طالبان جو امریکا کو غاصب اور کرزئی حکومت کو امریکی کٹھ پتلی سمجھتے ہوئے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ افغان حکومت کے لیے مستقبل میں سب سے بڑا ممکنہ خطرہ ہیں۔

اس خطرے کا سدباب کر کے ہی خطے میں امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان حکومت طالبان کے خطرے پر قابو نہیں پا سکی۔ وہ اپنی اس نا اہلی اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے افغانستان میں ہونے والی طالبان کی ہر کارروائی کے بعد پاکستان پر ان کی پشت پناہی کا الزام لگانا شروع کر دیتی ہے۔ افغان حکومت کو یہ امر نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے وہ طالبان کی کیسے حمایت کر سکتا ہے۔ پاکستان کی افواج دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی قربانیاں دے چکی ہے اور وہ اب بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور طور پر سرگرم ہے۔ امریکا کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ طالبان کی شمولیت کے بغیر افغانستان میں امن عمل کی کوئی کوشش نتیجہ خیز اور دور رس نہیں ہو سکتی اسی لیے وہ متعدد بار طالبان کو مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے مگر طالبان کا اپنا ایجنڈا ہے وہ امریکی ایجنڈے پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ امریکا اور نیٹو افواج بلا تاخیر افغان سرزمین سے نکل جائیں مگر امریکا طالبان کو اپنی شرائط پر لانا چاہتا ہے لہٰذا اب تک دونوں کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ دوسری جانب انڈیا افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے۔ بعض ایسے معاملات بھی سامنے آئے ہیں کہ انڈیا افغانستان میں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے لہذا انڈیا کا افغانستان میں بڑھتا ہوا اثرورسوخ مستقبل میں پاکستان کے لیے مسائل کا باعث بن سکتاہے۔بعض اطلاعات کے مطابق افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی سے اس کی معیشت پر غیر ضروری دباؤ بڑھ رہا ہے اور امریکا اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا ضروری سمجھتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ مستقبل میں افغانستان پر اپنا مکمل اثر قائم رکھنے کا بھی خواہاں ہے۔

لہذا اس مقصد کے لیے وہ افغان اور پاکستان حکومت کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کروا رہا ہے۔ اخباری خبر میں امریکی وزیر خارجہ اور جنرل کیانی کے درمیان خبر رساں ادارے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم نہ ہو سکی' دونوں ممالک طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہیں۔بہر حال یہ مذاکرات ایک اچھی کاوش ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے کیونکہ مذاکرات سے ہی مسائل کے حل نکلتے ہیں۔