چلی سے میچ ڈرا برازیلین شائقین کی ٹیم کیخلاف نعرے بازی

ورلڈکپ اسٹیڈیم میں میزبان سائیڈ دوسرے ہاف میں برتری برقرار نہ رکھ سکی،90ویں منٹ میں برالیوکوریڈکارڈ دکھایا گیا


Sports Desk April 26, 2013
فوٹو: فائل

برازیل کا2014 ورلڈ کپ کے گراؤنڈ پر چلی کے ساتھ پہلا دوستانہ میچ 2-2 سے ڈرا ہوگیا، میزبان شائقین نے اپنی ہی ٹیم کیخلاف زبردست نعرے بازی بھی کی۔

14مئی کو کنفیڈریشنز کپ کیلیے اسکواڈ کے اعلان سے قبل دوبارہ تشکیل شدہ منیارو اسٹیڈیم پر کوچ لوئز فلپ اسکولری کا یہ آخری آزمائشی میچ تھا،ایونٹ کے میچز جون میں برازیل کے 6 وینیوز پر کھیلے جائیں گے، برازیل میں26 مقابلوں میں پہلی مرتبہ جیت کے خواہشمند چلی نے مقابلے میں اچھا کھیل پیش کیا، یہ مقامی ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی کیلیے وینیو کو پرکھنے کا ایک موقع بھی تھا،15سے30جون تک ہونے والے ٹورنامنٹ کیلیے دوسرا وینیو جلد مکمل ہوجائے گا۔

53 ہزار سے زائد شائقین میچ سے لطف اندوز ہوئے، چلی کی ٹیم کے درمیان پاسز کے تبادلوں پر مقامی شائقین نے اپنی ٹیم کیخلاف نعرے بازی کی اور 'اولے' کے نعرے لگائے، فلیمنگو کیلیے کلب فٹبال کھیلنے والے ڈیفینڈر مارکوس گونزالیز نے آٹھویں منٹ میں ایک فری کک کی مدد سے گیند کو جال میں پھینک کر چلی کو برتری دلائی،برازیلین سینٹر بیک پیور نے نیمار کے کارنر پر ہیڈر کے ذریعے گول سے میچ ایک، ایک سے برابر کردیا، وقفے تک مقابلہ1-1 گول سے برابر تھا، نیمار نے میچ کے54ویں منٹ میں متبادل اسٹرائیکر الیگزینڈر پاٹو کے پاس پر گول کر کے میزبان ٹیم کو2-1 سے سبقت دلائی۔



گریمیوکی جانب سے کھیلنے والے اسٹرائیکر ایڈوارڈو ورگاس نے64ویں منٹ میں ایک شاندار شاٹ کے ذریعے گیند کو باکس کے ٹاپ کارنر پر پھینک کر چلی کو میچ2-2 سے برابر کرنے کا موقع فراہم کیا،میچ کے 90ویں منٹ میں چلی کے برالیو لیال کو سرخ کارڈ کا سامنا کرنا پڑا۔ دریں اثنا میچ کے بعد اسٹرائیکر نیمار نے کہاکہ ایک روز آپ کیخلاف نعرے لگتے تو اگلے دن تعریف ہوتی ہے، فٹبال کھیل ہی ایسا ہے۔ برازیلین کپتان رونالڈینو نے کہاکہ صرف ایک مرتبہ ٹریننگ کرنے والی ٹیم کیلیے جیتنا مشکل ہوتا ہے۔

ہم نے کوشش کی لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ مقابلہ کتنا سخت ہوا۔2002 ورلڈ چیمپئن کوچ اسکولری کی زیر نگرانی برازیل نے اب تک پانچ میچوں میں ایک جیتا، تین ڈرا کیے اور ایک میچ میں شکست ہوئی، چلی سخت مقابلوں پر مبنی جنوبی امریکن ورلڈ کپ کوالیفائنگ گروپ میں شامل ہے، اس میں کامیاب ہونے والی ابتدائی چار ٹیمیں خود بخود 2014 ایونٹ میں پہنچ جائیں گی۔