جامعہ کراچی اکیڈمک کونسل نے انسداد سرقہ پالیسی کی منظوری دیدی

جرم کی بنیاد پر جبری ریٹائرمنٹ،انکریمنٹ پر پابندی اوردیگرسزائیں دی جائیں گی


Staff Reporter April 26, 2013
گلگت بلتستان کے طلبا کے لیے داخلہ نشستوں میں اضافے کی سفارش مسترد فوٹو: فائل

جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل نے سرقہ نویسی کے خلاف یونیورسٹی کی''انسداد سرقہ پالیسی'' کی منظوری دیدی جس کے تحت سرقہ نویسی میں ملوث یونیورسٹی ملازم کو جرم کی بنیاد پر جبری ریٹائرمنٹ، سالانہ انکریمنٹ پر پابندی اورگزشتہ گریڈ میں تنزلی سمیت دیگرسزائیں دی جاسکیں گے۔

مزید براں اکیڈمک کونسل نے گلگت بلتستان کے طلبا کے لیے داخلہ نشستوں میں اضافے کی سفارش مستردکردی ہے، اس حوالے سے جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل کا اجلاس جمعرات کوسماعت گاہ کلیہ فنون میں شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصرکی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں سرکاری کالجوں کے مستقل4 بارفیل ہونے والے طلبا کو امتحان کا ایک اورموقع دینے کے معاملے پر کالجوں اوریونیورسٹی اساتذہ کے مابین سخت نوک جھوک ہوئی جس کے بعد اس تجویز کومسترد کر دیا گیا جبکہ کالج کے ایک پروفیسرکے ریمارکس پر یونیورسٹی اساتذہ نے اجلاس کاجزوی بائیکاٹ بھی کیا۔



بعدازاں کالج کے متعلقہ ٹیچر ہائوس سے باہر چلے گئے، اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں منظورکی گئی انسداد سرقہ پالیسی کے تحت جرم کی بنیاد پر دی جانے والے سزائوں کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جسے ''مائینرپنشمنٹ اور میجر پنشمنٹ'' کا نام دیا گیا ہے، پہلی کیٹگری میں تدریسی یا غیر تدریسی عملے سے تعلق رکھنے والے کسی ملازم کے تھیسز میں کچھ پیراگراف کسی دوسرے تھیسز سے مماثل پائے گئے تو جرم ثابت ہونے پر اس کی آئندہ ترقی روکی جاسکے گی اور سالانہ انکریمنٹ روکا جاسکے گا جبکہ پی ایچ ڈی کی بنیادپردی گئی مالی مراعات واپس لی جاسکیں گی۔

اس کے علاوہ اس ملازم کے گریڈ میں تنزلی بھی کی جاسکے گی، دوسری کیٹگری کے تحت بغیرکسی حوالے کے تھیسز کا بڑاحصہ ''کاپی'' کیا گیا ہو تو ایسی صورت میں یونیورسٹی ملازم کوجبری ریٹائر یا ملازمت سے برطرف بھی کیا جاسکے گا، طلبا کو ایسی صورت میں وارننگ، تھیسز دوبارہ لکھنے اور یونیورسٹی سے داخلہ منسوخ کرنے یا بے دخل کرنے کی سزائیں دی جاسکیں گے، متعلقہ شخص کوفیصلے کے خلاف اپیل کاحق حاصل ہوگا جبکہ سرقہ نویسی سے متعلق غلط اطلاع دینے والے کوبھی سزادینے کی سفارش کی گئی ہے۔