کنٹرول لائن پر کشیدگی ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت

دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان اب تک ہونے والی تمام فلیگ میٹنگز بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔


Editorial June 07, 2018
دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان اب تک ہونے والی تمام فلیگ میٹنگز بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ فوٹو: فائل

JAKARTA: ورکنگ بائونڈری پر گزشتہ 9روز سے جاری کشیدہ صورت حال کے خاتمے کے لیے بھارتی سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کی پنجاب رینجرز کے درمیان منگل کو فلیگ میٹنگ ہوئی جس میں سیز فائر پر عملدرآمد اور سرحدوں پر پرامن ماحول کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان 29مئی کو بھی فلیگ میٹنگ ہوئی تھی ۔

جس میں سرحد کے آر پار رہنے والی سول آبادی کو مشکلات سے بچانے کے لیے مخلصانہ اقدامات کرنے اور 2003ء کے پاک بھارت جنگ بندی معاہدے پر اس کی روح کے عین مطابق عملدرآمد کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا' بھارت اور پاکستان کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان سرحدی کشیدگی کے مسئلے پر متعدد بار ہاٹ لائن پر رابطے کے علاوہ فلیگ میٹنگز کے بھی بارہا دور چل چکے ہیں مگر اس کے باوجود سرحدی کشیدگی کسی طور بھی ختم ہونے میں نہیں آرہی' ادھر فلیگ میٹنگ ہوتی ہے اور ادھر بھارتی فوج کا جب جی چاہتا ہے وہ جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کر کے سرحدوں پر کشیدہ صورت حال پیدا کر دیتی ہے' پاکستانی فوج کو جواباً فائرنگ کر کے دشمن کی گنوں کو خاموش کرنا پڑتا ہے۔

دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان اب تک ہونے والی تمام فلیگ میٹنگز بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں اور سرحدوں پر یقینی امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکا۔ اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ معاملہ اس قدر بگڑ چکا ہے کہ اس کے حل کے لیے فلیگ میٹنگز کے بجائے حکومتی سطح پر مذاکرات کیے جائیں جس میں سرحدوں کو یقینی طور پر پرامن رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور اقوام متحدہ کو اس کا ضامن بنایا جائے تاکہ کسی بھی فریق کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو سکے۔