نگران حکومت کے لیے شفاف الیکشن اہم ہدف

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نگراں ٹیم کے کاندھوں پر، پرامن اورتشدد سے پاک انتخابات کے انعقاد کی بھاری ذمے داری آگئی ہے۔


Editorial June 07, 2018
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نگراں ٹیم کے کاندھوں پر، پرامن اورتشدد سے پاک انتخابات کے انعقاد کی بھاری ذمے داری آگئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

نگران وزیراعظم جسٹس (ر)ناصرالملک کی 6 رکنی وفاقی کابینہ نے منگل کو حلف اٹھالیا۔ ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین نے نگران کابینہ سے حلف لیا۔ کابینہ میں سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر، عبداللہ حسین ہارون، روشن خورشید بروچہ، اعظم خان، سید علی ظفر اور محمد یوسف شیخ شامل ہیں۔ حلف برداری کے بعد وزراء کو قلمدان بھی سونپ دیے گئے ہیں۔ نگران وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے صدر ممنون سے ملاقات کی۔

صدر نے کابینہ کو مبارکباد دی اور جمہوری حکومت کے دوسری دفعہ اپنی مدت پوری کرنے کو باعث مسرت قرار دیا۔ بلاشبہ جمہوری عمل کا تسلسل قومی سطح پر سیاست دانوں کے جمہوری رویوں اور پارلیمانی اقدار سے وابستگی کا مظہر ہے، ورنہ جمہوریت کی کشتی کے ڈبونے کی قیاس آرائیاں اعصاب شکن تھیں۔

میڈیا کے مطابق کابینہ ڈویژن کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عبداللہ حسین ہارون کو وزارت خارجہ اور قومی سلامتی ڈویژن کا قلمدان دیا گیا جب کہ وزارت دفاع و دفاعی پیداوار کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہوگا۔ عبداللہ حسین ہارون کا تعلق کراچی کے مشہور ہارون خاندان سے ہے اور وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کو وزارت خزانہ، شماریات اور وزارت منصوبہ بندی کا قلمدان دیا گیا ہے، اس کے ساتھ وزارت تجارت اور وزارت صنعت و پیداوار کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہوگا۔

ڈاکٹر شمشاد اختر عالمی بینک کی نائب صدر اور 2006ء سے 2009ء تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی گورنر رہ چکی ہیں۔ اس سے قبل وہ 2004ء میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈائریکٹر جنرل بھی تھیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر اقوام متحدہ میں انڈر سیکریٹری جنرل اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون کی سینئر مشیر بھی رہ چکی ہیں۔ محمد اعظم خان کو وزارت داخلہ، کیڈ اور نارکوٹکس کنٹرول کا قلمدان دیا گیا ہے اور ان کے پاس وزارت بین الصوبائی رابطہ کا اضافی چارج بھی ہوگا۔ اعظم خان ریٹائرڈ سینئر بیورو کریٹ ہیں اور وہ چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ وفاقی سیکریٹری پٹرولیم اور مذہبی امور بھی رہ چکے ہیں۔

وفاقی کابینہ میں بیرسٹرسید علی ظفر کو وزارت قانون و انصاف، وزارت پارلیمانی امور اور وزارت اطلاعات کا قلمدان دیا گیا ہے۔ بیرسٹر علی ظفر ممتاز ماہر قانون ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ انھیں سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر کیا تھا۔ روشن خورشید بروچہ کو وزارت انسانی حقوق، کشمیر و گلگت بلتستان امور اور وزارت سیفران کا قلمدان دیا گیا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی روشن خورشید سوشل ورک میں ماسٹرز ڈگری رکھتی ہیں۔ وہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2000 سے 2002 تک صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر بھی رہیں اور 2003 سے 2006 تک وہ بلوچستان سے سینیٹر اور قومی کمیشن انسانی ترقی کی قائم مقام چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔

یوسف شیخ کو وزارت وفاقی تعلیم پیشہ ورانہ تربیت کا چارج دیا گیا ہے جب کہ وزارت صحت اور وزارت مذہبی امور کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہوگا۔ شیخ محمد یوسف نے تمام زندگی تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ وہ کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں اور آرمی ایجوکیشن کور سے ریٹائرڈ میجر ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نگراں ٹیم کے کاندھوں پر، پرامن اور تشدد سے پاک انتخابات کے انعقاد کی بھاری ذمے داری آگئی ہے جسے اسے احسن طریقے سے پورا کرنا جب کہ قبل از انتخابات سماجی، معاشی اور سیاسی صورتحال کے ایک خوش آیند دورانیہ کو یقینی بنانا ہوگا، قوم یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ناصرالملک کی چنیدہ نگراں ٹیم اپنی اس محدود آئینی مدت میں ملکی پالیسیوں کو کس قدر شفافیت کے ساتھ آگے لے کر جاتی ہے، بلاشبہ نگراں سیٹ اپ کو ملکی تاریخ کے انتہائی پرجوش اور غیر معمولی ہیجان سے معمور الیکٹوریٹ کی امنگوں کی ترجمانی کرنا ہے، نگران وفاقی وزیر داخلہ اعظم خان نے حلف اٹھانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پرامن شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کو پوری سپورٹ دیں گے، عام حالات میں فوج کو بلانا نہیں چاہوںگا، اگر ضروری ہوا تو بلائیں گے، ہم پرامن انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔

وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا معاشی صورتحال کو مستحکم بنانا ان کی ترجیح ہوگی۔ وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے کہا ملک کا تشخص بلند کرنے کے لیے ان کے پاس کئی نئے آئیڈیاز ہیں، تاہم وزیراعظم کی رہنمائی کے تحت یہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیر قانون علی ظفر کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح عام انتخابات کے منصفانہ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت کرنا ہوگی۔ وزیر انسانی حقوق روشن خورشید بروچہ نے زور دیا کہ خواتین اور انسانی حقوق کے مسائل ان کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور وہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیں گی۔ روشن خورشید بروچہ کا تعلق بلوچستان کے پارسی قبیلے سے ہے۔

نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے اپنے پہلے اہم اقدام کے طور پر ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا اور ڈسکوز میں بھاری نقصانات پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ملک بھر میں بجلی کی صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت کی، نگراں وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سیکریٹری توانائی، ایم ڈی پیپکو اور ایم ڈی این ٹی ڈی سی نے شرکت کی اور نگراں وزیراعظم کو شعبہ توانائی کی صورتحال پربریفنگ دی گئی۔ لوڈشیڈنگ نگراں حکومت کے لیے دردسر رہے گی کیونکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا کہ ان کی حکومت نے 10 ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں ڈال دی ہے، اگر لوڈشیڈنگ ہورہی ہے تو اس کی ذمے دار نگران حکومت ہے، جب کہ پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں 8سے 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، پانچ سال حکومت کرنے والے بتائیں بجلی کی پیداوار میں اضافہ کہاں گیا۔

الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر جسٹس (ر) دوست محمد خان کو خیبر پختونخوا کا نگراں وزیراعلیٰ مقرر کردیا ہے جب کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کے معاملے پر 6 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا باضابطہ اجلاس بدھ کو پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم اے میں منعقد ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی میں رانا ثناء اللہ خان، خواجہ عمران نذیر اور ملک محمد احمد خان جب کہ پی ٹی آئی کی جانب سے میاں محمود الرشید، سبطین خان اور محمد شعیب صدیقی کے شامل ہونے کی اطلاع تھی۔ تحریک انصاف نے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے ایاز امیر اور حسن عسکری جب کہ (ن) لیگ کی جانب سے جسٹس (ر) ساحر علی اور سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) ذکاء اللہ کا نام دیا گیا ہے، ان میں سے کسی ایک نام پر اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی بصورت دیگر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔

ادھر بلوچستان میں نگران وزیراعلی کے لیے سابق وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اور سابق اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جا چکا ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے آیندہ انتخابات کے لیے انتخابی منشور کا اعلان کردیا ہے، ایم ایم اے کی جانب سے انتخابی منشور کا اعلان مولانا فضل الرحمان نے کیا، اس موقع پر ایم ایم اے کی قیادت سینیٹر سراج الحق، مولانا عبدالغفور حیدری، لیاقت بلوچ، اکرم خان درانی، ساجد نقوی و دیگر بھی موجود تھے۔

ملکی سیاست میں 6 رکنی نگراں کابینہ کا حلف اٹھانا اس امر کی دلیل ہے کہ جمہوریت تاریک سرنگ سے نکلی ہے اور اب اس کی منزل منصفانہ انتخابات کے خواب کی دلکش تعبیر سے عبارت ہے۔