دہشت گردی کی سہ جہتی وارداتیں

اس سمت میں غیر معمولی مستعدی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔


Editorial June 08, 2018
اس سمت میں غیر معمولی مستعدی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی تین مختلف سطحوں پر رونما ہونے والی وارداتیں تشویش ناک ہیں۔ ان واقعات نے یقیناً نگراں ارباب اختیار کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہوگی، جب کہ ملک میں انتخابی سرگرمیوں کے باقاعدہ آغاز پر ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے ان واقعات پر تشویش یا ان کی مذمت کے بجائے نیشنل ایکشن پلان کی روشنی میں فوری کاؤنٹر ٹیرر لائحہ عمل پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اس سمت میں غیر معمولی مستعدی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

مذکورہ سہ جہتی دہشت گردی کاا سٹریٹجیکل لیول اگرچہ زیادہ ہولناکی کا حامل نہیں بتایا گیا ہے تاہم اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک فعال ہے، اور ان کے دوسرے یا تیسرے درجہ کے کیڈر اور سہولت کار صورتحال کی ابتری کا سامان کرسکتے ہیں،کیونکہ اسلحہ کی بہتات اور منظم مسلح گروہوں کی ملی بھگت کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے، جب کہ تینوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی حکام کے اقدامات اور دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈز کے صفایا کیے جانے کے ردعمل کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔

واقعات کے مطابق لوئر دیر میں میدان کے علاقہ زیمدارہ میں دہشت گردوں نے ریموٹ کنٹرول سے بارودی مواد کا دھماکا کرکے ایس ایچ او بخت منیر سمیت دو اہلکاروں کو شہید کردیا، ایک زخمی اہلکار اسپتال میں منتقل کردیا گیا، دہشت گردوں نے تھانہ کی وین کو ٹارگٹ کیا تھا،کراچی میں کورنگی کے علاقہ میں جرائم پیشہ عناصر کی فائرنگ سے رینجرز کا ایک جوان شہید جب کہ 2 زخمی ہوگئے، رینجرز کی جانب سے ٹارگٹ کلر سمیت اس کے ساتھیوں کی خفیہ اطلاع پر چھاپہ مارا گیا تھا، واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کا گھیراؤ کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا جو رات گئے تک جاری تھا۔

ترجمان رینجرز سندھ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق رینجرز نے کورنگی کے علاقے سیکٹر 51 سی الیاس گوٹھ میں ٹارگٹ کلر شفیق کالا اور اس کے ساتھیوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کی، اس دوران ملزمان نے رینجرز کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کردی، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں رینجرز کا ایک حوالدار الیاس شہید جب کہ سپاہی ابراہیم اور سپاہی امیر زخمی ہوگئے۔

رینجرز کی جوابی کارروائی کے دوران ٹارگٹ کلر شفیق کالا اور اس کے ساتھی علیم الدین کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ رینجرز اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے ملزم شہباز عرف اسامہ کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

ادھر کوئٹہ میں دہشت گردوں کی پولیس پر فائرنگ سے ایک اہلکار شہید جب کہ 2 زخمی ہوگئے، پولیس کے مطابق فالکن پولیس اہلکار ارباب کرم خان روڈ پرگاڑی میں گشت کر رہے تھے کہ افطاری سے کچھ دیر قبل نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، جب کہ کوئٹہ شہر ہی میں محکمہ تعلیم کچھی میں بوگس ملازمین، کرپٹ اور جعل ساز مافیا کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ڈی او ای کچھی حفیظ کھوسہ پر ان کے گھر واقع کوئٹہ کلی بنگلزئی میں گزشتہ شب مسلح افراد نے قاتلانہ حملہ کر کے انھیں شدید زخمی کردیا۔

حب کے علاقے میں ڈاکوؤں کا راج ہے، گزشتہ روز ایک ڈاکو نے ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے الہ آباد کے علاقے میں دکاندار غلام رسول کو زخمی کردیا، اوستہ محمد کے علاقے میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار عابد علی شدید زخمی ہوگیا۔

یوں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ بھی سیاسی عبوری دورانیہ کا شاخسانہ لگتا ہے، چنانچہ جرائم پیشہ عناصر کی دیدہ دلیری اور دہشت گردوں کو وارداتوں کے لیے آسان ہدف ڈھونڈنے میں کوئی دشواری نہیں، سیکیورٹی حکام اس کنکشن کے خلاف بھرپور ایکشن لیں۔ دہشت گردوں کے لیے طاقت یکجا کرنے کی کوشش ان کی بقا اور وارداتوں میں کامیابی کی اہم کڑی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان مسلح گروہوں کی طرف سے آسان اہداف پر دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مین اسٹریم عفریت کا کہیں کوئی وجود نہیں، طالبانیت کو مکمل طور پر ملیامیٹ کردیا گیا ہے، لیکن دہشت گردی کا بے چہرہ ناسور ابھی ختم نہیں ہوا، خطے میں سخت مانیٹرنگ، باڑ کی تنصیب اور سرچ آپریشن نے امن کی بحالی میں مدد دی ہے، قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی اور بحالی کا کام جاری ہے مگر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مستحکم میکنزم اور مربوط انٹیلی جنس شیئرنگ کی ابھی مزید ضرورت ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ابھی سرد جنگ کے اثرات اور انتہا پسندی کی بین الاقوامی لہر سے محفوظ نہیں، خودکش بمبار پاکستان سمیت کہیں بھی واردات کرنے کے لیے اپنا شکار تلاش کر لیتے ہیں۔

ایسے جتھے عالمی جہادی نیٹ ورک سے منسلک ہیں جو مبصرین کے مطابق داعش کی نئی یلغار کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کے چاروں صوبوں کو موجودہ صورتحال کی حساسیت اور انتخابات کے انعقاد کے تناظر میں محتاط اور ہائی الرٹ رہنا چاہیے کیونکہ ملک دشمن طاقتیں پاکستان کے استحکام اور داخلی امن کو نقصان پہنچانے کے لیے الیکشن پروسیس کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہیں اور دہشتگردی کی اکا دکا وارداتیں ان کے اسی مشن کا حصہ ہوسکتی ہیں، دوسری طرف ملکی سلامتی کو بھارت، افغانستان گٹھ جوڑ اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں چھپے دہشت گردوں سے محفوظ رکھنا ناگزیر ہے۔