روہنگیا مسلمانوں کی میانمار واپسی کا معاہدہ

میانمار نے روہنگیا سے شہریت کے ثبوت طلب کیے حالانکہ انھیں محروم بھی میانمار کی حکومت نے ہی کر رکھا ہے۔


Editorial June 08, 2018
میانمار نے روہنگیا سے شہریت کے ثبوت طلب کیے حالانکہ انھیں محروم بھی میانمار کی حکومت نے ہی کر رکھا ہے۔ فوٹو: فائل

میانمار (سابق برما) اور اقوام متحدہ کے اداروں نے گزشتہ روز سات لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو جو اپنے ملک کی سیکیورٹی فورسز کے ظلم و تشدد کے نتیجے میں جان بچا کر فرار ہو کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں' ان کی واپسی کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت تمام کے تمام روہنگیا تو واپس نہیں جا سکیں گے مگر ان کی بڑی تعداد کے لیے اپنے آبائی گھروں کو لوٹنا ممکن ہو سکے گا۔ یہ معاہدہ افہام و تفہیم کی یادداشت کی شکل میں کیا گیا ہے جس کے تحت ایسے انتظامات کیے جائیں گے کہ بے گھر اور بے وطن روہنگیا کی اقلیت واپس آسکے مگر معاہدے میں ان کو ملکی شہریت دینے سے انکار کو تبدیل کرنے کا کوئی مداوا نہیں کیا گیا۔

میانمار کی حکومت نے کہا ہے انھیں امید ہے کہ اس معاہدے کے بعد روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے اپنے گھروں کو واپسی کا راستہ کھل جائے گا تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں واپس جانے والے مظلوم لوگوں کی حفاظت کے حوالے سے متفکر ہیں اور انھیں یقین نہیں ہے کہ اپنے آبائی گھروں سے بالجبر نکالے جانے والوں کو واپسی پر بھی مکمل تحفظ کی ضمانت دی جا سکے گی۔

بودھ آبادی کی اکثریت والے میانمار اور بنگلہ دیش میں نومبر کے مہینے میں پناہ گزینوں کی واپسی پر اتفاق ہو گیا تھا مگر روہنگیا مسلمانوں کو اپنی جان کا خطرہ تھا جس کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ میانمار نے روہنگیا سے شہریت کے ثبوت طلب کیے حالانکہ انھیں محروم بھی میانمار کی حکومت نے ہی کر رکھا ہے۔

میانمار میں اقوام متحدہ کے نمایندے کنوٹ روسٹبی نے کہا ہے کہ حالیہ معاہدہ اس بحران کو حل کرنے کی طرف ابتدائی قدم ہے جس کے بعد توقع ہے کہ یہ دیرینہ مسئلہ حل ہو سکے گا۔ روسٹبی نے مزید کہا کہ یہ بحران بہت گمبھیر ہے جس کے حل میں مناسب وقت لگے گا لیکن اگر پرخلوص انداز میں کوششیں جاری رہیں تو ان کا مثبت نتیجہ نکلے سکے گا۔

روہنگیا مسلمان ویسے تو قدیم عرصے سے برما کے بعض اضلاع میں مقیم ہیں مگر برما حکومت نے 1984ء میں انھیں برما کی شہریت سے محروم کر دیا تھا جس کے بعد تشدد اور قتل و غارت کے خونریز واقعات کے نتیجے میں بہت سے غریب مسلمان جان بچا کر نواحی ممالک کی طرف فرار ہو گئے تاہم اقوام متحدہ کی مدد سے تقریباً ڈھائی لاکھ روہنگیا کو بنگلہ دیش سے واپس لایا گیا تھا اس بنا پراقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو امید ہے کہ اب جو سات لاکھ سے زائد روہنگیا بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں ان میں سے بھی بڑی تعداد کی واپسی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔