سینئر سیاستدان رسول بخش پلیجو کی رحلت

رسول بخش پلیجو صنفی امتیاز اور خواتین پر تشدد کے سخت خلاف تھے۔


Editorial June 08, 2018
رسول بخش پلیجو صنفی امتیاز اور خواتین پر تشدد کے سخت خلاف تھے۔ فوٹو: فائل

سینئر سیاست دان اور عوامی تحریک کے بانی رسول بخش پلیجو گزشتہ روز کراچی میں انتقال کرگئے۔ ترجمان عوامی تحریک کے مطابق 88 سالہ رسول بخش پلیجو طویل عرصے سے علیل تھے، وہ سانس، دل اور سینے میں تکلیف کی شکایت کی وجہ سے کلفٹن میں نجی اسپتال میں زیرعلاج تھے۔ رسول بخش پلیجوکی میت کو آبائی علاقے جنگ شاہی لے جایا جائے گا اور وہیں ان کی نماز ادا کی جائے گی۔ بلاشبہ رسول بخش پلیجو کی شخصیت پاکستانی سیاست میں اہم مقام کی حامل تھی۔

ان کی پہچان صرف ایک سیاستدان ہی کی نہیں، بلکہ وہ پاکستان کے ایک بڑے دانشور، فلسفی، ادیب، نقاد، وکیل اور محقق بھی تھے۔ رسول بخش پلیجو 21 فروری 1930 کو ٹھٹہ کے منگر خان پلیجو گاؤں میں پیدا ہوئے۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم ٹھٹہ سے حاصل کی، جب کہ اعلیٰ تعلیم کراچی کے سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی، بعدازاں سندھ لاء کالج سے گریجویشن، اور سپریم کورٹ میں وکیل کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے، انھوں نے سندھی زبان میں 26کتابیں لکھیں۔ صرف 15 سال کی عمر میں انھوں نے اردو، انگریزی اور سندھی زبانوں پر عبور حاصل کر لیا تھا، جب کہ ہندی، فارسی، عربی، پنجابی، بنگالی، سرائیکی اور دیگر کئی زبانوں کو سمجھ اور بول سکتے تھے۔

انھوں نے 1970 میں سندھی عوامی تحریک نامی تنظیم سے سیاست کا آغاز کیا۔ انھوں نے ون یونٹ کے خاتمے اور بحالی جمہوریت تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا اور سندھ میں پہلی بار سندھیانی تحریک کے پلیٹ فارم سے خواتین کو سیاست میں متحرک کیا۔

رسول بخش پلیجو صنفی امتیاز اور خواتین پر تشدد کے سخت خلاف تھے، اپنے سیاسی پلیٹ فارم سے انھوں نے کئی بار کاروکاری، مذہب کی جبری تبدیلی اور خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ بربریت و وحشت پر مشتمل انسان دشمن، سماج دشمن قوانین کے خلاف تھے، اور طاقت و جبر والے سماج کو مسمار کرکے انسان دوست معاشرے کا قیام ضروری سمجھتے تھے۔

رسول بخش پلیجونے سیاسی زندگی کے 10سال مختلف جیلوں میں گزارے۔ انھوں نے کوٹ لکھپت جیل میں قیدکے دوران ایک ڈائری لکھی، جو سیاسیات کے طالب علموں کے لیے رہنما ہے۔ بلاشبہ رسول بخش پلیجو کی رحلت قومی سیاست کا بڑا نقصان ہے۔