نگران وزرائے اعلیٰ کا تقرر مکمل

نگراں سیٹ اپ صرف مانیٹرنگ کرنے پر مامور اور روزمرہ کے امور حکومت چلانے کی ذمے دار ہوگی


Editorial June 09, 2018
نگراں سیٹ اپ صرف مانیٹرنگ کرنے پر مامور اور روزمرہ کے امور حکومت چلانے کی ذمے دار ہوگی۔ فوٹو:انٹرنیٹ

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اور بلوچستان کے نگران وزرائے اعلیٰ کا متفقہ اعلان کردیا ہے ، پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری پنجاب جب کہ علائوالدین مری کو بلوچستان کا نگران وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا گیا، سندھ کے نگران وزیر اعلیٰ فضل الرحمٰن نے 7 رکنی کابینہ تشکیل دیدی، نگراں اراکین نے جمعہ کو حلف اٹھا لیا، 7 اراکین کے ناموں کو فائنل کرلیا جس کے ساتھ ہی ملک بھر میں نگران سیٹ اپ میں وزرائے اعلیٰ کی تقرری کا مرحلہ تقریباً مکمل ہوگیا ہے، تاہم مسلم لیگ ن نے حسن عسکری کی نامزدگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں حسن عسکری کی تقرری پورے انتخابی عمل کو مشکوک بنادیگی، ن لیگ کے مطابق حسن عسکری جمہوریت کے خلاف جب کہ ن لیگ کی حکومتی پالیسیوں کے خلاف ہیں، تاہم خاقان عباسی نے کہا کہ چاہے زمینی یا آسمانی مخلوق الیکشن کرائے ن لیگ الیکشن میں ضرور حصہ لیگی، ان کے اس اعلان سے اس خدشہ کو تقویت نہیں مل سکے گی کہ ن لیگ الیکشن سے باہر ہونے کا غیر معمولی فیصلہ بھی کرسکتی ہے، البتہ اصولی بات یہ ہے کہ نگراں حکومت کا اصل کام انتخابی عمل کی شفافیت اور وقت مقررہ پر اس کی تکمیل کے خواب کو ہر قیمت پر شرمندہ تعبیر بنانا ہے اور گزرتا وقت قانونی موشگافیوں میں الجھنے کا نہیں بلکہ ضرورت افہام وتفہیم سے فیئر اینڈ فری الیکشن کا ماحول سازگار کرنے کی ہے لہٰذا تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو انتخابات کے انعقاد کا ایک نکاتی ایجنڈا پیش نظر رکھنا چاہیے۔

نگراں سیٹ اپ صرف مانیٹرنگ کرنے پر مامور اور روزمرہ کے امور حکومت چلانے کی ذمے دار ہوگی ، پولنگ بوتھ پر تو ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ،اگر طے کرلیا جائے کہ دھاندلی نہیں ہوگی تو یہ الیکشن شفافیت کی تاریخی مثال بن سکتے ہیں۔دریں اثنا الیکشن کمیشن نے نگران وزرائے اعلیٰ کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا، جمعرات کو الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی نے پنجاب اور بلوچستان کے نگران وزائے اعلیٰ کی تقرری سے متعلق الگ الگ اجلاسوں میں غور کیا گیا، پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے اسپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے 4 نام بجھوائے گئے جن میں سے اپوزیشن کی جانب سے ڈاکٹر حسن عسکری ایاز امیر کے نام بھجوائے گئے، ایڈمرل(ر) ذکاء اللہ اور جسٹس (ر) سائر علی کے نام حکومت کی جانب سے بھجوائے گئے۔

الیکشن کمیشن نے پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری کو نگران وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایک گھنٹے تک مشاورت کے بعد ڈاکٹر حسن عسکری کی علمی، تدریسی اور سیاسی میدان میں بہت خدمات ہیں جس کے باعث ان کے نام پر اتفاق کیا گیا،ادھر بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ کی تقرری سے متعلق اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کی جانب سے بھیجے گے نام الیکشن کمیشن کو موصول ناموں پر غور کیا گیا، وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے اپوزیشن کی جانب سے اسلم بھوتانی اور اشرف جہانگیر قاضی کے نام بھیجے گئے جب کہ حکومت کی جانب سے شوکت پوپلزئی اور علائوالدین مری کے نام بھیجے گئے، اجلاس میں متفقہ طور پر علائوالدین مری کو نگران وزیراعلیٰ بلوچستان مقرر کرنے کی منظوری دی گئی، نامزد نگران وزیراعلیٰ پنجاب پروفیسر حسن عسکری نے جمعہ کو گورنر ہائوس لاہور میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

پنجاب کے نامزد نگران وزیراعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا تعلق منڈی بہاء الدین سے ہے، حسن عسکری نے 1980ء میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے پی ایچ ڈی کی جہاں انھیں فل برائٹ اسکالر شپ دیا گیا، پنجاب یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر رہ چکے ہیں ، انھیں جنوبی ایشیا، خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی امور پر خصوصی دسترس حاصل ہے، انھوں نے پاکستان میں جمہوریت اور سیاست پر کئی کتب لکھی ہیں، ان کی اکثر تصانیف کا موضوع سول ملٹری تعلقات رہا ہے، انھیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا، نگران وزیراعلیٰ بلوچستان میر علائوالدین مری کا تعلق ضلع مستونگ کے علاقے کلی اشکنہ سے ہے۔

انھوں نے 1979ء کو کوئٹہ میں غلام محی الدین مری کے گھر آنکھیں کھولی، ابتدائی تعلیم تعمیر نو پبلک ہائی اسکول اور تعمیر نو کالج کوئٹہ سے حاصل کرنے کے بعد میر علائوالدین مری نے گریجویشن جامعہ بلوچستان سے کی، ان کے والد غلام محی الدین مری محکمہ ترقی ومنصوبہ بندی میں چیف اکنامسٹ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ ان کی تقرری کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا،آرٹیکل 224اس کی ضمانت دیتا ہے کہ جب معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے تو اس کے فیصلہ پر نظر ثانی بھی نہیں کی جا سکتی۔

یہ واضح حقیقت ہے کہ انتخابات وقت مقررہ پر ہونے کا میدان سج چکا، جمہوریت نے بڑی پیش قدمی کی ہے، چیلنجز کا کوئی شمار نہیں، ہر روز کوئی نہ کوئی قیاس آرائی اور افواہ میڈیا پر سنسنی پھیلاتی رہی، ٹاک شوز لہو گرماتے رہے، مگر طالع آزمائی اور ماورائے آئین کوئی بھی اقدام نہیں اٹھایا گیا ، سیاسی قوتوں اور ریاستی اداروں میں جو کشمکش رہی وہ قانون وآئین کی ناگزیر باریکیوں اور عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات میں آئینی تشریحات سے متعلق تھیں، اس لیے سفینہ جمہوریت کو پار لگنے دیں۔اسی میں ملک کا فائدہ ہے۔