پانی اور توانائی کا بحران شدید تر اقدامات ندارد

پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہترین منصوبہ بندی اور جدید انفرااسٹرکچر نہایت ضروری ہے


Editorial June 09, 2018
پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہترین منصوبہ بندی اور جدید انفرااسٹرکچر نہایت ضروری ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں توانائی اور پانی کا بحران شدید تر ہوتا جارہا ہے جس پر فہمیدہ حلقے متوشش ہیں۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں بھی چیف جسٹس نے پانی سے متعلق پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز کی رپورٹس پر نوٹس لیتے ہوئے کمنٹس دیے کہ پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے۔

ترجمان سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق سی پی آر ڈبلیو آر کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025ء تک ملک بھر میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے، ملک بھر میں دستیاب 142 ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے صرف 42 ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال ہورہا ہے۔ باقی 100 ملین ایکڑ فٹ پانی مختلف طریقوں سے ضایع ہورہا ہے۔

یہ حقائق چشم کشا ہیں کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں تازہ پانی خاص طور پر پینے کے قابل پانی کی قلت ہے، اگرپانی دستیاب ہے تو وہ آلودہ ہے، پاکستان کا 80 فیصد پانی آلودہ ہے جب کہ مستقبل قریب میں آبی قلت پاکستان کے لیے بہت بڑا مسئلہ ثابت ہوگی، یہ قلت اس قدر شدید ہوگی کہ دو ایٹمی قوتیں پانی کے وسائل پر جنگ لڑ سکتی ہیں، کیونکہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی مستقل خلاف ورزیاں کررہا ہے، نئے آبی ذخائر کی تعمیر سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ پاکستان پر آبی جنگ مسلط کرنے کے مترادف ہے، بھارت آبی انتہاپسندی کی روش پر گامزن ہے، ملک بھر میں پانی کی قلت میں مسلسل اضافہ مستقبل میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے، حکومتی بدانتظامی، آبپاشی کے ناقص نظام، چوری اور پانی کا وافر مقدار میں بے دریغ ضیاع ہے۔

پاکستان دنیا کے 136 ممالک میں 36 ویں نمبر پر ہے جہاں پانی کی کمی کی وجہ سے معیشت، عوام اور ریاست شدید دباؤ میں ہیں۔ آبی ماہرین ایک عرصے سے ارباب اختیار کی توجہ اس جانب مبذول کراتے چلے آرہے ہیں، اگر پانی کے مسئلے سے اسی طرح صرف نظر کیا جاتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب ملکی سطح پر اس کا بہت بڑا بحران پیدا ہوجائے گا۔ حکومت اور اپوزیشن اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں مگر افسوس ذاتی مفادات، ایک دوسرے پر لعن طعن، دشنام طرازیاں، الزام بازیوں کے حصار میں دونوں قوتوں نے اس سنجیدہ مسئلہ کو اپنی بنیادی ترجیح نہیں بنایا، یہی وجہ ہے گزشتہ کئی عشروں سے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا۔

ترجمان کے مطابق ساٹھ اور ستر کے عشرے میں تعمیر کیے گئے منگلا اور تربیلا ڈیمز کے بعد ملک میں پانی کا ذخیرہ کرنے کا کوئی پروجیکٹ نہیں بنایا گیا جس کے سبب صرف 120 دن تک کا ہی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پانی بھی سیاست زدہ ہوگیا ہے، کوئی حکومت، کوئی ادارہ پانی کے حوالے سے دلیرانہ فیصلہ لینے سے قاصر ہے۔

واضح رہے کہ سنگاپور پاکستان کے مقابلے میں زیادہ واٹر اسٹریس کا شکار ہے۔ وہاں تازہ پانی کی جھیلیں یا ذخائر موجود نہیں اور پانی کی طلب فراہمی سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود عمدہ مینجمنٹ، عالمی معاہدوں اور ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کی وجہ سے سنگاپور کا شمار بہترین 'واٹر منیجرز' میں ہوتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی باعث تشویش ہے کہ بارشیں نہ ہونے کے باعث حب ڈیم میں پانی کی سطح پھر ڈیڈ لیول کی طرف بڑھنے لگی ہے، جس کی وجہ سے کراچی میں 10 کروڑ گیلن پانی کی یومیہ قلت کا امکان پیدا ہوگیا ہے، جب کہ شہر کے زیادہ تر علاقے پہلے ہی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔

پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہترین منصوبہ بندی اور جدید انفرااسٹرکچر نہایت ضروری ہے، مگر حکومت کی بے نیازی اور انتظامیہ کی مبینہ کرپشن اور نااہلی نے اسے ایک ایسا مسئلہ بنادیا ہے جو حل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے بھی ملک میں بارشیں معمول سے کم ہونے کے باعث خشک سالی کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ پانی کے بحران کے علاوہ ملک کو توانائی بحران کا بھی سامنا ہے۔ توانائی بحران سنگین ہونے سے چھوٹی صنعتیں تباہی کا شکار ہیں، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں رہی سہی صنعتیں بھی بند ہوجائیں گی۔ ہمارے انجینئروں کو متبادل توانائی نظام دینے کے لیے بھرپور تحقیق کرنا ہوگی۔

ضروری ہے کہ آبی، شمسی اور ہوائی وسائل سے پیدا کیے جانے والے منصوبوں کو مقررہ معیار کے اندر پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے، خاص طور پر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے جو منصوبے شروع کیے گئے ہیں ان کو مکمل کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔ کیونکہ ان میں سے ایک منصوبے کے بارے میں یہ خبر ہے کہ اس پر ابھی تک صرف 50 فیصد کام ہوا ہے، جب کہ ایک دوسرے ایسے ہی منصوبے پر ابھی تک کام کا آغاز بھی نہیں ہوسکا، اگر یہی عالم رہا تو ملک کو توانائی کے بحران سے نجات دلانے کا خواب تشنہ ہی رہے گا، اس لیے ان منصوبوں کی ہر حالت میں بروقت تکمیل کی طرف توجہ دینا ازبس ضروری ہے۔

دوسری جانب عوام کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ پانی کی قلت اور توانائی بحران سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کریں اور بے جا اسراف سے گریز کریں۔