افغان طالبان مذاکرات اور امریکی کارروائیاں

امن کے حصول کے لیے افغان قیادت کی یکطرفہ جنگ بندی کی کاوش قابل ستائش ہے۔


Editorial June 10, 2018
امن کے حصول کے لیے افغان قیادت کی یکطرفہ جنگ بندی کی کاوش قابل ستائش ہے۔ فوٹو: فائل

ایک جانب افغانستان حکومت اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان خفیہ مذاکرات کی خبریں بھی گردش میں ہیں جب کہ ساتھ ہی امریکی کارروائیاں بھی جاری ہیں جس کے تناظر میں یہ سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذاکرات اور طالبان کے خلاف کارروائیاں ایک ساتھ جاری رکھ کر کسی مثبت نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ جب کہ اس امر سے کسی طور اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ پرامن افغانستان خطے کے امن کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتا ہے۔

ایک جانب افغانستان میں غیر ملکی اور امریکی فوج کے سپریم کمانڈر جنرل جان نکلسن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں اور طالبان کابل حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں، نکلسن کے مطابق صدر ٹرمپ کی پالیسی کو اثر دکھانے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے، کیونکہ سردست اس کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے ہیں، لیکن دوسری جانب امریکی جنرل کا کہنا ہے کہ مشرقی افغانستان میں جہادی کارروائیوں میں مصروف داعش کو اگلے ایام کے دوران سخت عسکری آپریشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو اتحادی ممالک کے وزرائے دفاع سے ملاقات کے موقع پر جنرل نکلسن کا کہنا تھا کہ کابل کی جانب سے طالبان کے خلاف جنگ بندی کے اعلان کے بعد داعش پر توجہ مرکوز کرنا آسان ہو گا۔ امریکی جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان طالبان کے علاوہ کسی اور گروپ پر قابل عمل نہیں ہے۔

علاوہ ازیں افغان وزیر دفاع طارق شاہ بہرام نے بھی برسلز میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت نے طالبان کو امن کی یکطرفہ جنگ بندی صورتحال میں بہتری کے لیے دی ہے، اسے کسی کسی طور پر بھی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

طالبان جنگجوؤں کے ساتھ افغان حکومت کی مذاکرات کی کوششیں قابل ستائش ہیں لیکن بہرحال اس موضوع سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ آیا جنگ زدہ افغانستان میں کوئی جنگ بندی معاہدہ طے پا سکتا ہے، کیونکہ شورش زدہ علاقوں میں قیام امن کے لیے فریقین کی جانب سے جنگ بندی اور منتقمانہ کارروائیوں کا روکا جانا ازحد ضروری ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ طالبان کے کچھ عناصر امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

امن کے حصول کے لیے افغان قیادت کی یکطرفہ جنگ بندی کی کاوش قابل ستائش ہے۔ اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغانستان مسئلے کا حل عسکری نہیں اور اس تنازع کا حل سیاسی مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ صائب ہوگا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے مسلسل رابطوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔