جی سیون گروپ کا مشترکہ اعلامیہ

یورپی ممالک کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی سے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔


Editorial June 12, 2018
یورپی ممالک کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی سے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ فوٹو: گیٹی

کینیڈا کے کیوبک سٹی میں ہونے والے جی سیون گروپ کے اجلاس میں امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان ایرانی جوہری معاہدے اور تجارتی معاملات پر اختلافات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے، جاپان اور یورپی ملک امریکی خواہشات کے برعکس ایران سے جوہری معاہدے کو جاری رکھنے پرمتفق ہیں۔

کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پْرامن مقاصد کے لیے جاری رہنا چاہیے، ایران سے مالی مدد حاصل کرنے والے دہشت گردگروپوں سمیت تمام عسکریت پسندوں کی مذمت کی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق کینیڈا، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی اور جاپان آزادانہ، منصفانہ اور آپس میں باہمی مفادات کی تجارت کی ضرورت پر متفق ہیں مگر اطلاعات یہ ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی روز اجلاس کے بعد کینیڈا سے سنگاپور چلے گئے تھے، انھوں نے مشترکہ اعلامیے کی توثیق سے بھی انکارکردیا۔

یورپی حکمرانوں نے عالمی سطح پر بہت سے شدید نوعیت کے معاملات پر امریکا کا بھرپور ساتھ دیا بالخصوص عراق اور افغانستان پر حملے کے وقت یورپی حکمرانوں نے امریکا کی ہاں میں ہاں ملائی اور اسے دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ قرار دے کر اس کا بھرپور ساتھ دیا، لیبیا کے معاملے میں بھی یہی صورت حال پیش آئی حتٰی کہ یورپی ممالک کے اپنے اندر شہریوں کی بڑی تعداد نے عراق پر حملے کے خلاف مظاہرے کیے جنھیں نظرانداز کرتے ہوئے یورپی حکمرانوں نے امریکا کا ساتھ دیا۔

اس صورت حال کے تناظر میں امریکا کو امید تھی کہ ایران کے معاملے پر بھی یورپی ممالک ماضی کی طرح اس کا ساتھ دینے میں کسی تذبذب کا شکار نہیں ہوں گے۔ لیکن امریکا کو حیرت ہوئی جب یورپی ممالک اس مسئلے پر واضح طور پر امریکی موقف کے خلاف ہوگئے' امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر چکے اور اب وہ ایران کے خلاف مزید کارروائی کے متمنی ہیں۔

یورپی ممالک کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی سے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس سے یورپی ممالک میں تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا جس سے ان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے' یورپی ممالک کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتہا پسندانہ پالیسیاں مزید مسائل کو جنم دیں گی۔

یہی وجہ ہے کہ جی سیون اجلاس کے دوران کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ جی سیون میں شامل تمام ممالک ایک مشترکہ کمیونیکیشن پر اتفاق کرتے ہیں لیکن وہاں سے سنگا پور روانگی کے بعد ٹرمپ نے ٹوئٹرپر کینیڈین وزیراعظم کے خلاف محاذ کھول دیا اور کہا ٹروڈو بے ایمان اور کمزور شخص ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا امریکا کے کسانوں ، ملازمین اور کمپنیوں سے بہت زیادہ ٹیرف لے رہا ہے، ہم دیگر ممالک کو امریکی کمپنیوں اور کسانوں پربے تحاشا ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

امریکی صدر نے غیرمنصفانہ تجارت کے خاتمے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ تمام تجارتی پابندیاں، ٹیکس، سبسیڈیز ختم ہونی چاہئیں، جو ممالک امریکی تجارتی پالیسی کی مخالفت کر رہے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔کینیڈا کے وزیراعظم نے تمام الزامات مسترد کردیے ہیں۔ یہ معاملات اس امر کے مظہر ہیں کہ امریکا کو اب عالمی سطح پر اختلافی امور نمٹانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔