انتخابی افق خدشات و توقعات

ملک میں افرتفری پھیلانے اورانتخابات کو سبوتاژ کرنے کی خبریں اس سے قبل بھی میڈیا پر آتی رہی ہیں۔


Editorial June 12, 2018
ملک میں افرتفری پھیلانے اورانتخابات کو سبوتاژ کرنے کی خبریں اس سے قبل بھی میڈیا پر آتی رہی ہیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ

الیکشن کمیشن نے آیندہ انتخابات کے عمل میں قومی مبصرین کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا کی شرکت کے حوالے سے اپنے پالیسی کے ازسر نو جائزے کے لیے اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں انتخابات ایکٹ 2017 کے مطابق آیندہ انتخابات میں ملکی و عالمی مبصرین اور میڈیا کی شرکت کے قانونی شق کا جائزہ لیا جائے گا۔

بلاشبہ الیکشن کے انتظامی محاذ پر الیکشن کمیشن کے اقدامات زور و شور سے جاری ہیں تاہم سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے اور پارٹی منشور اور مستقبل کی حکومت سازی کے لیے جامع انتخابی مہم کے حوالے سے وہ سنجیدہ روڈ میپ نظر نہیں آرہے ہیں جن سے ووٹرز کے لیے اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے کہ آیندہ الیکشن کی ہوا کا رخ کیا ہوگا اور خود رائے دہندگان کس جوش وجذبہ، جمہوری کمٹمنٹ اور فیصلہ کن مینڈیٹ کے حصول کے لیے کس انتخابی آدرش کے ساتھ پولنگ بوتھ تک جائیں گے۔

25 جولائی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے سلسلہ میں گزشتہ روز بھی امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسران کو داخل کرنے کا پر جوش سلسلہ جاری رہا جب کہ پیر کو کاغذات نامزدگی وصول و جمع کرانے کا آخری دن تھا اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم کے فیصلوں کے بعد امیدوار اپنی سیاسی وابستگی یا پھر آزاد امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کرائے گئے گے۔

تمام مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے قائدین سمیت اہم رہنمائوں اور سرگرم کارکنوں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جب کہ بہت سی قیاس آرائیوں اور پارٹی قیادت اور ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے اسکورٹنی کمیٹی اور پارلیمانی بورڈز کے فیصلوں سے اتفاق و اختلاف کے کئی دلچسپ و تلخ مناظر میڈیا کے زینت بھی بنے، جنھیں ٹکٹوںسے محروم ہونا پڑا ان کا اضطراب دیدنی تھا مگر بنیادی نکتہ الیکشن جیتنے کی جدلیات اور ڈائنامکس کا ہے۔

جس پر مبصرین کافی متوشش نظر آتے ہیں، ان کا کہنا ہے الیکشن اگرچہ قریب ہیں لیکن مشاہدہ میں یہی آیا ہے کہ سیاست دان مختلف مقدمات اور اسکینڈلز میں الجھے ہوئے ہیں، کئی ہائی پرفائل مقدمات ان کا تعاقب کررہے ہیں، خواجہ حارث کی نیب ریفرنسز سے علیحدگی جب کہ اصغر خان کیس میں پیش رفت سے خطیر رقوم کی ادائیگی کی تحقیقات سے بھی متعدد سیاسی رہنما دست تہ سنگ ہیں۔

پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی اور ن لیگ میں ان کے اہم پارٹی رہنما اور بانی کارکنوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں نظر انداز کیا گیا، ادھر ایم کیو ایم پاکستان میں کنوینرشپ کی کشمکش منطقی انجام تک پہنچ گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کنوینر کا فیصلہ خالد مقبول صدیقی کے حق میں دیا لیکن ٹکٹ دینے کا اختیار رابطہ کمیٹی کی دو تہائی اکثریت کے پاس ہی ہوگا چنانچہ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست کس رخ پر جاتی ہے، یہ ایک اہم سوال ہے۔

جنرل پرویز مشرف کو ممکنہ گرفتاری کے خوف سے عدلیہ سے ضمانت درکار ہے، ان کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم مبہم ہے، ادھر سیاسی جماعتوں میں وکٹیں گرانے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار اور ن لیگ کے درمیان ترک تعلق کی داستان دلچسپ و عجیب رہی، چوہدری نثار سولو فلائٹ پر مجبور ہوئے، وہ اب مریم نواز کے مقابل الیکشن لڑنے کا تہیہ کرچکے ہیں، عدالت عظمیٰ نے شریف فیملی کے خلاف ریفرنسز پر ایک ماہ میں فیصلہ کا حکم دیا ہے، نواز شریف کو استثنیٰ مل گیا اور وہ کل لندن روانہ ہوںگے.

ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف عید لندن میں ہی کریں گے ، عمران خان اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرہ ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہوگئے، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے عمران کی بیٹی ٹیریان وائٹ کے متعلق دستاویزی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایک انٹرویو میں سابق چیف جسٹس نے کہا کہ وہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی چیلنج کریں گے، افتخار چوہدری کے مطابق ٹیریان کو اپنی بیٹی کے طور پر کاغذات نامزدگی میں ڈیکلئیر نہ کرکے ان پر آرٹیکل 62 ون ایف لاگو ہوگیا کیونکہ وہ بیرون ملک ٹیریان کو بیٹی مانتے اور پاکستان میں ایسا نہیں کرتے۔

غالباً ریحام خان کی متنازع غیرمطبوعہ کتاب میں مبینہ سنگین الزامات کے بعد عمران کے سیاسی کیرئیر کے خلاف ایک اہم عدالتی شخصیت کی طرف سے غیر معمولی پیش قدمی ہے ، دریں اثنا چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سوشل میڈیا پرحقائق کے برعکس وڈیوز اور تصاویر نشرہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قابل غور ریمارکس دیے۔

چیف جسٹس نے اسلام آباد ایئرپورٹ پرپانی کھڑا ہونے کے معاملے پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا کہ سوشل میڈیا پر منفی رائے عامہ قائم کی جارہی ہے، افسوس کی بات ہے بہت سارے سوشل میڈیا کے اکائونٹس سرحد پار سے چلائے جا رہے ہیں، ریاستی اداروں پر حملے ہو رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے، کچھ غیر ملکی قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے بے یقینی اور افراتفری پیدا کر رہی ہیں۔

نگراں حکومت کے لیے منصف اعلیٰ کے ارشادات چشم کشا ہیں، ملک میں افرتفری پھیلانے اورانتخابات کو سبوتاژ کرنے کی خبریں اس سے قبل بھی میڈیا پر آتی رہی ہیں اور ملکی سیاست جس انتخابی راستے پر چل رہی ہے اس میں بھی کوئی کہکشاں نظر نہیں آتی بلکہ ووٹروں کو شاید پتھروں پر چل کر پولنگ بوتھ تک جانا پڑے۔